🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : المحافظة على الوضوء
باب: پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2086، ومصباح الزجاجة: 114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 2 (681) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں سالم بن ابی الجعد اور ثوبان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دارمی اور ابن حبان میں سند متصل ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 412)
وضاحت: ۱؎: راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
277
استقيموا ولن تحصوا اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
سنن الدارمي
679
سددوا وقاربوا خير أعمالكم الصلاة لن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
سنن الدارمي
678
استقيموا ولن تحصوا اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة لن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
المعجم الصغير للطبراني
86
استقيموا ولن تحصوا اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
المعجم الصغير للطبراني
142
استقيموا ولن تحصوا اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 277 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث277
اردو حاشہ:
(1)
سیدھی راہ پر قائم رہو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام پر قائم رہو، جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
﴿فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (البقرۃ: 132/2)
 تمھیں جب موت آئے اسلام پر آئے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ افراط وتفریط سے بچ کر راہ اعتدال پر قائم رہو۔
نہ ذکر وعبادت  سے بے پراوائی کرو نہ خود پر اتنا بوجھ ڈال لو کہ اس پر کار بند رہنا دشوار ہوجائے۔

(2) (لَنْ تُحْصُوا)
کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص اس انداز سے نیکی کی راہ پر قائم نہیں رہ سکتا کہ اس سے کوئی غلطی اور کوتاہی سرزد نہ ہو نہ یہ ممکن ہے کہ ذکر، شکر اور عبادت کا حق ادا کرسکے۔
یہ اللہ تعالی کے اس ارشاد کی طرف اشارہ ہے:
(عَلِمَ اَن لَّنْ تُحْصُوْه) (المزمل: 73؍2)
اسے معلوم ہے کہ تم پوری طرح نباہ نہ سکوگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
 (لَا اُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أثْنَيْتَ عَلٰي نَفْسِكَ) (صحيح مسلم، الصلاة، باب مايقال في الركوع والسجود؟ حديث: 486)
 (اے اللہ)
میں تیری پوری پوری تعریف نہیں کرسکتا تو ایسے ہی ہے جیسے تو نےاپنی ثنا فرمائی۔

(3)
وضو کا قائم رہنا یا ٹوٹ جانا ایسی چیز ہے جس کا علم دوسروں کو عام طور پر نہیں ہوتا اور اس معاملے کو آسانی سے پوشیدہ رکھا جاسکتا ہے۔
اس کا اہتمام محض اسی یقین کی بناء پرہوسکتا ہے کہ دوسرے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے۔
وضو کی حفاظت کا مطلب اولاً سردیوں اور گرمیوں میں پوری طرح اعضاء کو دھونا ہے۔
ثانیاً وضو کرتے وقت اعضاء کو توجہ سے دھونا کہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔
اور ثالثاً زیادہ سے زیادہ اوقات میں باوضو رہنا بھی ہو سکتا ہےاوریہ کام ایمان کی قوت کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔

(4)
ایمان ایک قلبی کیفیت ہے جس کا اظہاراعمال سے ہوتا ہے۔
اعمال میں اہم ترین عمل نماز ہے۔
فرضی نماز تو اتنا اہم عمل ہے کہ اسے کفر اور ایمان کے درمیان امتیاز کے لیے ایک علامت قرار دیا گیا۔
متقین کی سب سے اہم صفت اور اخروی فلاح وکامیابی کے لیے اولین شرط نماز کو قرار دیا گیا ہے۔
 (دیکھیے سورۃ البقرۃ: 2؍5، 2)
 نفل نماز کی ایک اپنی اہمیت ہے۔
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام کے حصول کا طریقہ بتایا اور فرمایا:
(فَأَعِنِّيْ عَلٰي نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُوْدِ) (صحيح مسلم، الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه، حديث: 489)
 سجدوں کی کثرت کے ذریعے سے اپنے نفس کے خلاف میری مدد کرو
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 277]