🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : السعي بين الصفا والمروة
باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَيْبَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ:" لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا".
شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 177 (2983)، (تحفة الأشراف: 18382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/404، 405) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک کے بچہ کو جنا ہو۔ ابطح: صفا اور مروہ کے درمیان ایک مقام ہے، اب وہاں دو ہرے نشان بنا دئیے گئے ہیں، وہاں دوڑ کر سعی کرنی چاہئے یہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے، وہ پانی کی تلاش میں یہاں سات بار دوڑی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حبيبة بنت أبي تجراة الأزديةصحابي
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← حبيبة بنت أبي تجراة الأزدية
لها رؤية
👤←👥بديل بن ميسرة العقيلي
Newبديل بن ميسرة العقيلي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← بديل بن ميسرة العقيلي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2987
لا يقطع الأبطح إلا شدا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2987 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2987
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ابطح (سنگریزوں والی زمین)
سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان کی وادی ہے۔

(2)
سعی کی جگہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے۔
پہاڑوں پر چڑھتے یا ان سے اترتے وقت دوڑنا مسنون نہیں۔

(3)
آج کل سعی کی جگہ کو ہموار کرکے پختہ رستہ بنا دیا گیا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جتنی جگہ ہموار تھی اس کی حد بندی سبز نشانوں سے کر دی گئی ہے۔
یہ نشان ميلين اخضرين کہلاتے ہیں۔
ان کے درمیان دوڑنا چاہیے۔
باقی فاصلہ عام رفتار سے طے کرنا چاہیے۔

(4)
موجودہ عمارت میں اوپر کی منزل میں بھی سعی کی جا سکتی ہے۔
وہاں بھی سبز رنگ سے دوڑنے کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2987]