یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : السعي بين الصفا والمروة
باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَيْبَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ:" لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا".
شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ”ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2987]
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے حضرت شیبہ (بن عثمان) کی ام ولد رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا» ”سنگریزوں والی زمین صرف دوڑ کر ہی طے کی جائے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 177 (2983)، (تحفة الأشراف: 18382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/404، 405) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک کے بچہ کو جنا ہو۔ ابطح: صفا اور مروہ کے درمیان ایک مقام ہے، اب وہاں دو ہرے نشان بنا دئیے گئے ہیں، وہاں دوڑ کر سعی کرنی چاہئے یہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے، وہ پانی کی تلاش میں یہاں سات بار دوڑی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2987
| لا يقطع الأبطح إلا شدا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2987 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2987
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ابطح (سنگریزوں والی زمین)
سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان کی وادی ہے۔
(2)
سعی کی جگہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے۔
پہاڑوں پر چڑھتے یا ان سے اترتے وقت دوڑنا مسنون نہیں۔
(3)
آج کل سعی کی جگہ کو ہموار کرکے پختہ رستہ بنا دیا گیا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جتنی جگہ ہموار تھی اس کی حد بندی سبز نشانوں سے کر دی گئی ہے۔
یہ نشان ميلين اخضرين کہلاتے ہیں۔
ان کے درمیان دوڑنا چاہیے۔
باقی فاصلہ عام رفتار سے طے کرنا چاہیے۔
(4)
موجودہ عمارت میں اوپر کی منزل میں بھی سعی کی جا سکتی ہے۔
وہاں بھی سبز رنگ سے دوڑنے کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ابطح (سنگریزوں والی زمین)
سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان کی وادی ہے۔
(2)
سعی کی جگہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے۔
پہاڑوں پر چڑھتے یا ان سے اترتے وقت دوڑنا مسنون نہیں۔
(3)
آج کل سعی کی جگہ کو ہموار کرکے پختہ رستہ بنا دیا گیا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جتنی جگہ ہموار تھی اس کی حد بندی سبز نشانوں سے کر دی گئی ہے۔
یہ نشان ميلين اخضرين کہلاتے ہیں۔
ان کے درمیان دوڑنا چاہیے۔
باقی فاصلہ عام رفتار سے طے کرنا چاہیے۔
(4)
موجودہ عمارت میں اوپر کی منزل میں بھی سعی کی جا سکتی ہے۔
وہاں بھی سبز رنگ سے دوڑنے کی جگہ کا تعین کردیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2987]
Sunan Ibn Majah Hadith 2987 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← حبيبة بنت أبي تجراة الأزدية