🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب : الوقوف بجمع
باب: مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : قَالَ جَابِرٌ : أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَقَالَ:" لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3023]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اطمینان و سکون کی کیفیت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بھی سکون کا حکم دیا اور انہیں ایسی (چھوٹی) کنکریوں کے ساتھ رمی کرنے کا حکم دیا جو انگلیوں میں پکڑ کر پھینکی جا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادئِ محسر میں سواری کو تیز کیا اور فرمایا: میری امت کو چاہیے کہ اپنے عبادت کے طریقے سیکھ لے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں اس سال کے بعد ان سے (حج میں) ملاقات نہ کر سکوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 66 (1944)، سنن النسائی/الحج 204 (3024)، 215 (3055)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 55 (886)، مسند احمد (3/301، 332، 367، 391) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وادی محسر: منیٰ اور مزدلفہ کے درمیان ایک وادی ہے جس میں اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا، جو یمن سے کعبہ کو ڈھانے اور اس کی بے حرمتی کے لیے آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الله بن رجاء المكي، أبو عمران
Newعبد الله بن رجاء المكي ← سفيان الثوري
ثقة تغير حفظه قليلا
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← عبد الله بن رجاء المكي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3064
خذوا مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد عامي هذا
سنن أبي داود
1970
لتأخذوا مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه
سنن ابن ماجه
3023
لتأخذ أمتي نسكها فإني لا أدري لعلي لا ألقاهم بعد عامي هذا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3023 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3023
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے دوران میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتے ہوئے تیز رفتاری سے پرہیز کرنا چاہیے بلکہ درمیانی راستہ سے چلنا چاہیے۔

(2)
وادئ محسر وہ مقام ہے جہاں ابرہہ کا لشکر تباہ ہوا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تیزی سے گزرے۔

(3)
قدیم تباہ شدہ بستیوں کو سیر گاہ نہیں بنانا چاہیے۔
پاکستان میں ہڑپہ اور موہن جودڑو کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں دوسرے ممالک میں بھی ایسے مقام موجود ہیں۔
ممکن ہے یہاں کے لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہوں۔
اللہ کی عذاب یافتہ قوموں کے آثار باعث عبرت ہے تماشہ گاہ نہیں۔

(4)
شریعت کے مسائل میں اصل مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہےکسی اور کا عمل حجت نہیں۔
علمائے کرام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہی دریافت کرنا چاہیے۔

(5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے حج تک زندہ نہیں رہے جیسے آخری حج کے موقع پر فرما دیا تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی بہت سی پیشگوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں۔
یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور نبوت کی دلیل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3023]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3064
سوار ہو کر کنکریاں مارنے اور محرم کے سایہ کرنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کر سکوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3064]
اردو حاشہ:
شاید دراصل آپ کو بہت سے قرائن کی بنا پر معلوم ہو چکا تھا کہ یہ میری دنیوی زندگی کا آخری سال ہے اور اسے آپ نے اشارات وکنایات میں لوگوں پر ظاہر بھی کر دیا تھا۔ مندرجہ بالا جملہ بھی اسی بات کا اظہار ہے۔ حج نہ کر سکنے کا مطلب بھی وفات ہی ہے۔ شاید کا لفظ پیغمبرانہ شان ہے کہ باوجود یقین کے امکان ظاہر کیا کیونکہ ایسے معاملات بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہیں۔ صرف تین ماہ بعد پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مولا و رفیق اعلیٰ کو پیارے ہوگئے۔ فداہ نفسي وروحي وابي وامي صلی اللہ علیہ وسلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3064]

Sunan Ibn Majah Hadith 3023 in Urdu