🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب : الوقوف بجمع
باب: مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" غَدَاةَ جَمْعٍ يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاسَ أَوْ أَنْصِتِ النَّاسَ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ".
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3024]
حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مزدلفہ میں تم پر احسان فرمایا ہے کہ تمہارے نیکوکاروں کی وجہ سے تمہارے گناہ گاروں کو بھی بخش دیا ہے اور تمہارے نیکوکاروں نے جو کچھ مانگا انہیں دے دیا۔ اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2048، ومصباح الزجاجة: 1055) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابوسلمہ الحمصی مجہول ہیں، لیکن انس، عبادہ اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہم کے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1624)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،أبو سلمة ھذا لا يعرف اسمه وھو مجهول ‘‘ وللحديث شواهد كلها ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بلال بن رباح الحبشي، أبو عبد الكريم، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو عمروصحابي
👤←👥أبو سلمة الحمصي، أبو سلمة
Newأبو سلمة الحمصي ← بلال بن رباح الحبشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن أبي رواد المكي
Newعبد العزيز بن أبي رواد المكي ← أبو سلمة الحمصي
صدوق ربما وهم، ورمي بالإرجاء
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد العزيز بن أبي رواد المكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عمرو بن عبد الله الأودى، أبو عثمان
Newعمرو بن عبد الله الأودى ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← عمرو بن عبد الله الأودى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3024
الله تطول عليكم في جمعكم هذا فوهب مسيئكم لمحسنكم وأعطى محسنكم ما سأل ادفعوا باسم الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3024 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3024
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ بعض دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (الصحيحة للألباني رقم: 1624)
بنابریں اگر مجمع بڑا ہوتو بات شروع کرنے سے پہلے سامعین کو توجہ دلائی جاسکتی ہےکہ خاموشی سے بات سنیں۔

(2)
مزدلفہ میں اللہ کی طرف سے حاجیوں کو مغفرت کا انعام ملتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3024]

Sunan Ibn Majah Hadith 3024 in Urdu