سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب : زيارة البيت
باب: طواف زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3059
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج 129 (1732 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 82 (2000)، سنن الترمذی/الحج 80 (920)، (تحفة الأشراف: 6452، 17594)، حدیث عائشہ تقدم تخریجہ في حدیث ابن عباس، وحدیث طاوس تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18845، ومصباح الزجاجة: 1062)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/288) (شاذ)» (اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ترمذی اور منذری نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، اور ابن القیم نے اس کو وہم کہا ہے، اور البانی صاحب نے شاذ کا حکم لگایا ہے، اس لیے کہ صحیح ترین احادیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارہ (افاضہ) زوال کے بعد کیا تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4/ 364 - 365 و ضعیف أبی داود: 342)
وضاحت: ۱؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارت یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2000) ترمذي (920)
محمد بن طارق عن طاوس مرسل (تحفة الأشراف 13 / 239) وحديث أبي الزبير مسند لكنه عنعن (انظر الحديث السابق: 92) وعلقه البخاري في صحيحه (قبل: 1732)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2000) ترمذي (920)
محمد بن طارق عن طاوس مرسل (تحفة الأشراف 13 / 239) وحديث أبي الزبير مسند لكنه عنعن (انظر الحديث السابق: 92) وعلقه البخاري في صحيحه (قبل: 1732)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن طاوس بن كيسان اليماني ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة إمام فاضل | |
👤←👥محمد بن طارق المكي محمد بن طارق المكي ← طاوس بن كيسان اليماني | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن طارق المكي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر بكر بن خلف البصري ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
920
| أخر طواف الزيارة إلى الليل |
سنن أبي داود |
2000
| أخر طواف يوم النحر إلى الليل |
سنن ابن ماجه |
3059
| أخر طواف الزيارة إلى الليل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3059 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3059
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو شاذ قراردیا ہے۔
شاذ کا مطلب ہے کہ یہ حدیث زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سےقابل ترک ہے۔
(2)
۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو تعلیقاً ان الفاظ سے روایت کیا ہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الزيارة يوم النحرقبل، حديث: 1722)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی یہ توجیہ کی ہےکہ اس سے مراد ایام تشریق کی راتوں میں کعبہ کی زیارت ہے۔
دس ذوالحجہ کا طواف نہیں۔
وہ دن ہی میں ہوا۔ (فتح الباري: 3/ 716/ 717)
فوائد و مسائل:
(1)
۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو شاذ قراردیا ہے۔
شاذ کا مطلب ہے کہ یہ حدیث زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سےقابل ترک ہے۔
(2)
۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو تعلیقاً ان الفاظ سے روایت کیا ہے:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الزيارة يوم النحرقبل، حديث: 1722)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی یہ توجیہ کی ہےکہ اس سے مراد ایام تشریق کی راتوں میں کعبہ کی زیارت ہے۔
دس ذوالحجہ کا طواف نہیں۔
وہ دن ہی میں ہوا۔ (فتح الباري: 3/ 716/ 717)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3059]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 920
طواف زیارت رات میں کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 920]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 920]
اردو حاشہ:
1؎:
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے،
جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا،
امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر،
صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں:
”حديث ابن عباس وعائشة المذكور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري،
وأما على تقدير الصحة فهذا الجمع متعين“۔
(ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے،
اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع و تطبیق متعین ہے)
2؎:
امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے،
صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں،
کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے،
ابو الحسن القطان کہتے ہیں ”عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلی اللہ علیہ وسلم يومئذ نهاراً“۔
نوٹ:
(ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے،
نیز ابو الزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے،
اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا،
اس لیے شاذ ہے)
1؎:
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے،
جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا،
امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر،
صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں:
”حديث ابن عباس وعائشة المذكور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري،
وأما على تقدير الصحة فهذا الجمع متعين“۔
(ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے،
اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع و تطبیق متعین ہے)
2؎:
امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے،
صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں،
کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے،
ابو الحسن القطان کہتے ہیں ”عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلی اللہ علیہ وسلم يومئذ نهاراً“۔
نوٹ:
(ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے،
نیز ابو الزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے،
اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا،
اس لیے شاذ ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 920]
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي