یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. . باب : الحج ماشيا
باب: پیدل حج کا بیان۔
حدیث نمبر: 3119
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّيَّاتِ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، وَقَالَ: ارْبُطُوا أَوْسَاطَكُمْ بِأُزُرِكُمْ، وَمَشَى خِلْطَ الْهَرْوَلَةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو“، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3119]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ سے مکہ تک پیدل چل کر حج کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی کمروں پر تہبند اچھی طرح باندھ لو (کمریں کس لو)۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی رفتار سے چلے جس میں کچھ دوڑنا بھی شامل تھا (اتنی تیزی سے چلے کہ دوڑنے کے قریب ہو گئے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4089، ومصباح الزجاجة: 1082) (ضعیف)» (سند میں حمران بن اعین الکوفی ضعیف ہیں، آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2734)
وضاحت: ۱؎: کسی حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں کہیں دوڑ کر چلے ہوں سوائے دو مقاموں کے ایک تو طواف قدوم کے پہلے تین پھیروں میں، دوسرے صفا اور مروہ میں دو نشانوں کے درمیان۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حمران بن أعين: ضعيف رمي بالرفض (تقريب: 1514)
ومن أجله ضعفه البوصيري والصواب معه دون الحاكم والذهبي (442/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
إسناده ضعيف
حمران بن أعين: ضعيف رمي بالرفض (تقريب: 1514)
ومن أجله ضعفه البوصيري والصواب معه دون الحاكم والذهبي (442/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3119
| اربطوا أوساطكم بأزركم ومشى خلط الهرولة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3119 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3119
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت ضعیف ہے جبکہ گزشتہ ابواب میں صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے سفر میں اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی سواریوں پر سفر کیا تھا۔
مذکورہ روایت ضعیف ہے جبکہ گزشتہ ابواب میں صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے سفر میں اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی سواریوں پر سفر کیا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3119]
Sunan Ibn Majah Hadith 3119 in Urdu
عامر بن واثلة الليثي ← أبو سعيد الخدري