🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : التباعد للبراز في الفضاء
باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْن عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 331]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/الطہارة 16 (20)، سنن النسائی/الطہارة 16 (17)، (تحفة الأشراف: 11540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244)، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مقصود اس سے پردہ ہے، جہاں سے اور جیسے بھی حاصل ہو جائے کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة حجة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1
إذا ذهب المذهب أبعد
جامع الترمذي
20
أتى النبي حاجته فأبعد في المذهب
سنن ابن ماجه
331
إذا ذهب المذهب أبعد
سنن الدارمي
683
إذا ذهب إلى الحاجة أبعد
سنن الدارمي
684
إذا تبرز تباعد
صحيح ابن خزيمة
50
إذا ذهب المذهب أبعد
المعجم الصغير للطبراني
114
فغسل يديه ، ومضمض ، واستنثر ، وغسل وجهه ، وذراعيه ، ومسح بناصيته وعلى الخفين والعمامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 331 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه: 331
اردو حاشہ:
پردے کے اعضاء کو دوسروں کی نظروں سے چھپانا ہر حال میں فرض ہے، پیشاب وغیرہ کی حاجت کے وقت انسان کو اپنا جسم کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اس مقصد کے لیے بیت الخلاء میں جانا چاہیے تاکہ دوسروں سے پردہ قائم رہے۔
اگر میدان میں یہ ضرورت پیش آئے تو دوسروں سے اس قدر دور چلے جانا چاہیے کہ کسی کو نظر نہ پڑے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کسی چیز کی اوٹ میں فراغت حاصل کرلی جائے مثلاً کسی دیوار یا درخت کے پیچھے چلا جائےبشرطیکہ وہاں ممانعت کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو یعنی وہ درخت عام لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ کے طور پر استعمال نہ ہوتا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 331]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابوداود : 1
قضائے حاجت کے لیے تنہائی کی جگہ جانا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (یعنی پیشاب اور پاخانہ) کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود: 1]
فوائد و مسائل
➊ دیہات میں یعنی کھلے علاقے میں قضائے حاجت کے لیے آبادی سے دور جانا ضروری ہے تاکہ کسی شخص کی نظر نہ پڑے۔ شہروں میں چونکہ باپردہ بیت الخلاء بنے ہوتے ہیں، اس لیے وہاں دور جانے کی ضرورت نہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک انسانی اور اسلامی فطرت کا آئینہ دار ہے جس میں شرمگاہ کو انسانی نظر سے محفوظ رکھنے کے علاوہ ماحول کی صفائی ستھرائی کے اہتمام کا بھی درس ملتا ہے اور مزید یہ کہ آبادی کے ماحول کو کسی طرح بھی آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔
➌ نیز آپ حیا و وقار کا عظیم پیکر تھے۔
➍ ان احادیث میں اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی بالغ نظری بھی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست و برخاست تک کے ایک ایک پہلو کو کس دقت نظر اور شرعی حیثیت سے ملاحظہ کیا، اسے اپنے اذہان میں محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابوداود : 1
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (یعنی پیشاب اور پاخانہ) کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
تفصیل۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (یعنی پیشاب اور پاخانہ) کے لیے جاتے تو دور تشریف لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
[احادیث متعارضہ اور ان کا حل، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی: 20
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے۔ [سنن ترمذي: 20]
اردو حاشہ:
1؎:
ایسا صرف لوگوں کی نظروں سے دور ہو جانے کے لیے کرتے تھے،
اب یہ مقصد تعمیر شدہ بیت الخلاء سے حاصل ہو جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 20]

Sunan Ibn Majah Hadith 331 in Urdu