Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : لعنت الخمر على عشرة أوجه
باب: شراب پر دس طرح سے لعنت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ شَبِيبٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , أَوْ حَدَّثَنِي أَنَسٌ , قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً:" عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ , وَحَامِلَهَا , وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ , وَبَائِعَهَا , وَالْمُبْاعَةَ لَهُ , وَسَاقِيَهَا , وَالْمُسْتَقَاةَ لَهُ , حَتَّى عَدَّ عَشَرَةً مِنْ هَذَا الضَّرْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 59 (1295)، (تحفة الأشراف: 900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/316، 2/97) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
صحابي
👤←👥شبيب بن بشر البجلي، أبو بشر
Newشبيب بن بشر البجلي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← شبيب بن بشر البجلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سعيد التستري، أبو بكر
Newمحمد بن سعيد التستري ← الضحاك بن مخلد النبيل
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1295
الخمر عشرة عاصرها ومعتصرها شاربها حاملها المحمولة إليه ساقيها بائعها آكل ثمنها المشتري لها المشتراة له
سنن ابن ماجه
3381
عاصرها معتصرها المعصورة له حاملها المحمولة له بائعها المباعة له ساقيها المستقاة له
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3381 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3381
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شراب نوشی اللہ کی نافرمانی اور کبیرہ گناہ ہے۔
نیز شراب بہت سی خرابیوں کاباعث ہے۔

(2)
شراب سے کسی بھی انداز سے تعلق قائم ہونا اللہ کی رحمت سے دوری اور اللہ کی لعنت کا باعث ہے۔

(3)
نچڑوانے والے سے مراد وہ شخص ہے جو کسی ملازم کو حکم دیتا ہے۔
کہ شراب بنانے کےلئے انگوروں کو نچوڑکررس نکالو۔
اور نچوڑنے والا وہ ملازم ہے۔
جو اس حکم کی تعمیل کرتا ہے۔
اور جس کے لئے نچوڑی گئی سے مراد وہ گاہک ہے۔
جس نے شراب بنانے والے سے معاہدہ کیا ہے۔
کہ وہ تیار شدہ شراب خرید لے گا۔
یا اس سے مراد وہ شخص ہے جسے پیش کرنے کےلئے شراب تیار کی گئی۔
مثلاً کوئی خاص مہمان دوست یا عزیز وغیرہ
(4)
جس کے لئے اٹھائی گئی ہے۔
سے مراد
(الف)
و ہ شخص بھی ہوسکتا ہے۔
جسے شراب پیش کی جانی مقصود ہے۔
خواہ وہ اسے پینا چاہتا ہویا خریدنا چاہتا ہو۔
اسے تحفہ کے طور پر دی جا رہی ہو۔
پہلی حدیث میں جس کے پاس اٹھا کر لے جائی گئی۔
کے بھی یہ سب مفہوم ہوسکتے ہیں۔
جودوسری شق (ب)
میں شامل ہیں۔

(5)
قیمت کھانے والے سے مراد وہ شخص ہے جس کو اس کی تجارت سے مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

(6)
گناہ کے کام میں کسی کا تعاون بھی گناہ میں شریک ہونے کے برابر ہے۔
خواہ وہ تعاون بظا ہر معمولی ہو۔

(7)
جب یہ بات معلوم ہو یہ خیال ہو کہ فلاں کام سے فلاں گناہ تکمیل کو پہنچے گا تو اس کام کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر انجام دینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3381]