🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : الرجل يسلم عليه وهو يبول
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَتَيَمَّمَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 351]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی پاس سے گزرا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو زمین پر دونوں ہاتھ مار کر تیمّم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15401، ومصباح الزجاجة: 145) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ضعف ہے اس لئے کہ مسلمہ بن علی ضعیف ہیں، ابی اور صحیحین میں «الأرض» کے بجائے «الجدار» کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 256)
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ الجدار مكان الأرض
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي: متروك (تقريب: 6662)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥مسلمة بن علي الخشني، أبو سعيد
Newمسلمة بن علي الخشني ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
متروك الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← مسلمة بن علي الخشني
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
351
يبول فسلم عليه فلم يرد عليه فلما فرغ ضرب بكفيه الأرض فتيمم ثم رد
سنن ابن ماجه
3695
وعليك السلام
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 351 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث351
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث کی یہ سند ضعیف ہے، البتہ اس قسم کا واقعہ دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے تشریف لارہے تھے کہ ایک آدمی آپ کو ملا۔
اس نے سلام کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے پہلے دیوار پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر پھیر ے (تیمم کیا)
پھر سلام کا جواب دیا۔ (صحیح البخاری، التیمم، باب التیمم فی الحضر إذا لم یجد الماء وخاف فوت الصلاۃ، حدیث: 337)

(2)
کسی عذر اور مشغولیت کی وجہ سے سلام کا جواب مؤخر کرنا جائز ہے۔

(3)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ بالا واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ تیمم کے لیے سفر شرط نہیں۔
سورہ مائدہ کی آیت: 6 سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیمم سفر ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں ان حالات کا ذکر ہے جن میں عام طور پر تیمم کی ضرورت پیش آسکتی ہے یہ مطلب نہیں کہ ان حالات کے علاوہ تیمم جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 351]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3695
سلام کے جواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» (اور تم پر بھی سلامتی ہو)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3695]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر مسجد میں چند افراد مل کر بیٹھے ہوئے ہوں تو ان کے پاس آنے والا انہیں سلام کرے۔

(2)
  سلام کا جواب ضرور دینا چاہیے۔

(3)
«عليك» ایک آدمی کے لیے اور «عليكم» زیادہ زیادہ افراد کے لیے ہوتا ہے لیکن ایک آدمی کو بھی «عليكم» کہنا درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3695]

Sunan Ibn Majah Hadith 351 in Urdu