سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : من استرقى من العين
باب: نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّادٍ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ: عَيْنِ الْجَانِّ وأَعْيُنِ الْإِنْسِ , فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَهُمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3511]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسانوں کی نظر سے پناہ ملنے کی دعا کیا کرتے تھے، جب معوذتین ( ﴿سورة الفلق﴾ اور ﴿سورة الناس﴾) نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں چھوڑ دیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 16 (2058)، سنن النسائی/الإستعاذة 36 (5496)، (تحفة الأشراف: 4327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2058) نسائي (5496)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
ترمذي (2058) نسائي (5496)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2058
| يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلتا أخذ بهما وترك ما سواهما |
سنن ابن ماجه |
3511
| يتعوذ من عين الجان و أعين الإنس فلما نزلت المعوذتان أخذهما وترك ما سوى ذلك |
سنن النسائى الصغرى |
5497
| يتعوذ من عين الجان وعين الإنس فلما نزلت المعوذتان أخذ بهما وترك ما سوى ذلك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3511 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3511
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے: (ہدایة الرواۃ إلی التخریج أحادیث المصابیح والمشکاۃ، رقم: 4288 وسنن ابن ماجة بتحقیق محمود محمد محمود حسن نصار: 3511)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے: (ہدایة الرواۃ إلی التخریج أحادیث المصابیح والمشکاۃ، رقم: 4288 وسنن ابن ماجة بتحقیق محمود محمد محمود حسن نصار: 3511)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3511]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2058
معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس) کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2058]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2058]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان دونوں سورتوں یعنی ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ کے بہت سارے فائدے ہیں،
انہیں صبح وشام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اورآفتوں سے محفوظ رہے گا،
ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
وضاحت:
1؎:
ان دونوں سورتوں یعنی ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ کے بہت سارے فائدے ہیں،
انہیں صبح وشام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اورآفتوں سے محفوظ رہے گا،
ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2058]
Sunan Ibn Majah Hadith 3511 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري