سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : الانتعال قائما
باب: کھڑے ہو کر جوتا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7170، ومصباح الزجاجة: 1262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن
والحديث ضعيف من جميع طرقه ولم يصب من صححه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
سفيان الثوري عنعن
والحديث ضعيف من جميع طرقه ولم يصب من صححه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن دينار القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3619
| نهى النبي أن ينتعل الرجل قائما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3619 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3619
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے صحیح کہا ہے خصو صاً شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر طویل بحث کی ہے جس سے تصحیح والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے واللہ أعلم مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: (الصحيحة، رقم: 719 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور مشار عواد رقم: 3618، 3619)
بنا بریں جوتا بیٹھ کر پہننا بہتر ہے خاص طور پر وہ جوتا جسے کھڑے ہو کر پہننے میں مشقت ہو۔
(2)
اسلام دین کامل ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں اخلاقی اور قانونی رہنمائی موجود ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے صحیح کہا ہے خصو صاً شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر طویل بحث کی ہے جس سے تصحیح والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے واللہ أعلم مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: (الصحيحة، رقم: 719 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور مشار عواد رقم: 3618، 3619)
بنا بریں جوتا بیٹھ کر پہننا بہتر ہے خاص طور پر وہ جوتا جسے کھڑے ہو کر پہننے میں مشقت ہو۔
(2)
اسلام دین کامل ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں اخلاقی اور قانونی رہنمائی موجود ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3619]
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي