یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : اتخاذ الجمة والذوائب
باب: کان کی لو سے بال نیچے رکھنے اور چوٹیاں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3635
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرٌ دُونَ الْجُمَّةِ , وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3635]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «جُمَّة» سے کم اور «وَفْرَة» سے زیادہ تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 9 (4187)، سنن الترمذی/اللباس 21 (1755)، (تحفة الأشراف: 17019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 118) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد | |
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل محمد بن أبي فديك الديلي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد دحيم القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي | ثقة حافظ متقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4187
| شعر رسول الله فوق الوفرة ودون الجمة |
سنن ابن ماجه |
3635
| شعر دون الجمة وفوق الوفرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3635 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3635
اردو حاشہ:
جمہ سے مراد کندھوں تک پہنچنے والے بال اور وفرہ سے مراد کانوں تک پہنچنے والے بال ہیں۔
جمہ سے مراد کندھوں تک پہنچنے والے بال اور وفرہ سے مراد کانوں تک پہنچنے والے بال ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3635]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4187
بالوں کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4187]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4187]
فوائد ومسائل:
1) سر کے بال جب کانوں کی لوؤں تک آئیں تو (وَفُرَة) اور جب کندھوں تک پہنچیں تو(جمُة) کہلاتے ہیں۔
اور ان کے درمیان کو (لِمَة) سے تعبیر کرتے ہیں
2) مردوں کو مذکورہ بالا مختلف اندازوں میں بال رکھنا جائز ہے،بشرطیکہ مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہو۔
1) سر کے بال جب کانوں کی لوؤں تک آئیں تو (وَفُرَة) اور جب کندھوں تک پہنچیں تو(جمُة) کہلاتے ہیں۔
اور ان کے درمیان کو (لِمَة) سے تعبیر کرتے ہیں
2) مردوں کو مذکورہ بالا مختلف اندازوں میں بال رکھنا جائز ہے،بشرطیکہ مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4187]
Sunan Ibn Majah Hadith 3635 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق