علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : حق اليتيم
باب: یتیم کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ , الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3678]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ» ”اے اللہ! میں (لوگوں کو) دو کمزوروں یتیم اور عورت، کی حق تلفی کرنا (تاکید کے ساتھ) حرام ٹھہراتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13047، ومصباح الزجاجة: 1281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/439) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3678
| أحرج حق الضعيفين اليتيم والمرأة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3678 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3678
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
یتیم اپنی ضروریات کے سلسلے میں اپنے سر پرست کا محتاج ہوتا ہے۔
وہ اس سے اس طرح مطالبہ نہیں کر سکتا جس طرح بچہ اپنے باپ سے ضد کر کے یا ناز کے ساتھ اپنی بات منوا لیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یتیم کی ضروریات اس کے مطالبے کے بغیر پوری کی جائیں۔
(2)
عورت اخلاقی، قانونی اور شرعی طور پر اپنے خاوند کے ماتحت ہے۔
اگر خاوند اس کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرے اس کے با وجود وہ اپنے بچوں کی محبت کی وجہ سے یا خاوند سے محبت کی وجہ سےاس گھر میں رہنے پر مجبور ہو تو خاوند کو چاہیے کہ اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے بلکہ اس کے حقوق بہتر انداز سے ادا کرے۔
فوائد ومسائل:
(1)
یتیم اپنی ضروریات کے سلسلے میں اپنے سر پرست کا محتاج ہوتا ہے۔
وہ اس سے اس طرح مطالبہ نہیں کر سکتا جس طرح بچہ اپنے باپ سے ضد کر کے یا ناز کے ساتھ اپنی بات منوا لیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ یتیم کی ضروریات اس کے مطالبے کے بغیر پوری کی جائیں۔
(2)
عورت اخلاقی، قانونی اور شرعی طور پر اپنے خاوند کے ماتحت ہے۔
اگر خاوند اس کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرے اس کے با وجود وہ اپنے بچوں کی محبت کی وجہ سے یا خاوند سے محبت کی وجہ سےاس گھر میں رہنے پر مجبور ہو تو خاوند کو چاہیے کہ اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے بلکہ اس کے حقوق بہتر انداز سے ادا کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3678]
Sunan Ibn Majah Hadith 3678 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي