یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب : ما يكره من الأسماء
باب: ناپسندیدہ اور برے ناموں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ , حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ , فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ".
مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اجدع ایک شیطان ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3731]
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میری ملاقات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: ”تو کون ہے؟“ میں نے کہا: ”مسروق بن اجدع ہوں“۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: «الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ» ”اجدع شیطان ہے“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 70 (4957)، (تحفة الأشراف: 10641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/31) (ضعیف)» (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4957
| الأجدع شيطان |
سنن ابن ماجه |
3731
| الأجدع شيطان |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3731 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3731
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(أجدع)
کے لفظی معنی ”نکٹا“ ہیں۔
اور ناک کٹنا اردو کی طرح عربی میں بھی بے عزتی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے جب کے دوسرے اعضائے سے محرومی (مثلاً:
اعرج، لنگڑا)
میں یہ قباحت نہیں، اس لیے ایسے نام سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
فوائد و مسائل:
(أجدع)
کے لفظی معنی ”نکٹا“ ہیں۔
اور ناک کٹنا اردو کی طرح عربی میں بھی بے عزتی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے جب کے دوسرے اعضائے سے محرومی (مثلاً:
اعرج، لنگڑا)
میں یہ قباحت نہیں، اس لیے ایسے نام سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3731]
Sunan Ibn Majah Hadith 3731 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عمر بن الخطاب العدوي