🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3830
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ فِي مَجْلِسِ الْأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكَتِّبِ , عَنْ طَليْقٍ بْنِ قَيْسِ الْحَنَفِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ , وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ , وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ , وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي , وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ , رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا , لَكَ ذَكَّارًا , لَكَ رَهَّابًا , لَكَ مُطِيعًا , إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا , رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي , وَاغْسِلْ حَوْبَتِي , وَأَجِبْ دَعْوَتِي , وَاهْدِ قَلْبِي , وَسَدِّدْ لِسَانِي , وَثَبِّتْ حُجَّتِي , وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي" , قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ: قُلْتُ لِوَكِيعٍ: أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3830]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مُطِيعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے خلاف (دشمن کی) مدد نہ فرما، اور میری تائید فرما، اور میرے خلاف (دشمن کی) تائید نہ فرما، اور میرے حق میں تدبیر فرما، اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما، اور مجھے ہدایت دے، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے رب! مجھے ایسا (بندہ) بنا جو تیرا بہت شکر کرنے والا ہو، تیرا بہت ذکر کرنے والا ہو، تجھ سے بہت ڈرنے والا ہو، تیری اطاعت کرنے والا ہو، تیرے سامنے عاجزی کرنے والا ہو، تیری طرف ہی رو رو کر رجوع کرنے والا (اور توبہ کرنے والا) ہو۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان سیدھی رکھ، میری دلیل کو (پختہ اور) قائم رکھ، اور میرے دل سے کینہ نکال دے۔ ابو الحسن نے کہا: میں نے وکیع سے کہا: کیا میں وتر میں یہ دعائیں مانگ لیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 360 (1510، 1511)، سنن الترمذی/الدعوات 103 (3551)، (تحفة الأشراف: 5765)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طليق بن قيس الحنفي
Newطليق بن قيس الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الحارث الزبيدي
Newعبد الله بن الحارث الزبيدي ← طليق بن قيس الحنفي
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3551
رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي
سنن أبي داود
1510
رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر هداي إلي وانصرني على من بغى علي اللهم اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا إليك مخبتا أو منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي واهد قلبي وسدد لساني واسلل سخيم
سنن ابن ماجه
3830
رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3830 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3830
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
  مسنون دعائیں یاد کر کے نمازوں میں پڑھی جائیں۔
نماز کے علاوہ بھی دعا مانگتے ہوئے یہ دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

(2)
ہر قسم کی مشکل اور مصیبت میں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔
اس دعا میں دشمنوں کے خلاف مدد بھی مانگی گئی ہے اور اپنی اخلاقی خامیوں سے نجات اور خوبیوں اور ان کے حصول کی درخواست بھی کی گئی ہے، اس لئے یہ ایک جامع دعا ہے۔

(3)
زبان سیدھی ہونے کا مطلب ایسی توفیق کا حصول ہے کہ زبان سے گناہ یا گمراہی کی بات نہ نکلے۔

(4)
دلیل قائم رکھنے سے مراد حق کی تبلیغ کے دوران میں صحیح، پختہ اور واضح دلائل پیش کرنے کی توفیق بھی ہو سکتی ہے اور قبر یا قیامت میں حساب کتا ب کے موقع پر ایسا جواب دینے کی توفیق بھی جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو کر گناہ معاف فرما دے اور جنت میں داخل کر دے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3830]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3551
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اے اللہ! تو میری تائید و نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی تائید و نصرت نہ فرما، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3551]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے میرے رب! میری مدد کر،
میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر،
اے اللہ! تو میری تائید ونصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی تائید ونصرت نہ فرما،
اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ فرما،
اور اے اللہ! تو مجھے ہدایت بخش اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما،
اور اے اللہ! میری مدد فرما اس شخص کے مقابل میں جو میرے خلاف بغاوت و سرکشی کرے،
اے میرے رب تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار بندہ بنا لے،
اپنا بہت زیادہ یاد و ذکر کرنے والا بنا لے،
اپنے سے بہت ڈرنے والا بنا دے،
اپنی بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بنا دے،
اور اپنے سامنے عاجزی و فروتنی کرنے والا بنا دے،
اور اپنے سے درد و اندوہ بیان کرنے اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔
اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہ دھو دے،
اور میری دعا قبول فرما،
اور میری حجت (میری دلیل) کو ثابت و ٹھوس بنا دے،
اور میری زبان کو ٹھیک بات کہنے والی بنا دے،
میرے دل کو ہدایت فرما،
اور میرے سینے سے کھوٹ کینہ حسد نکال دے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3551]

Sunan Ibn Majah Hadith 3830 in Urdu