سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : الصبر على البلاء
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4034
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ , وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا , فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ , وَلَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ , فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ ”تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4034]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھ سے میرے جگری دوست (جانی محبوب) صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، خواہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا تجھے جلا دیا جائے۔ اور فرض نماز جان بوجھ کر ترک نہ کرنا۔ جس نے اسے عمداً ترک کیا، اس سے (اللہ کی حفاظت کا) ذمہ جاتا رہا۔ اور شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی چابی ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10986، ومصباح الزجاجة: 1421) (حسن)» (آخری جملہ اس سند سے کتاب الأشربہ میں گزرا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4034
| لا تشرك بالله شيئا وإن قطعت وحرقت لا تترك صلاة مكتوبة متعمدا فمن تركها متعمدا فقد برئت منه الذمة لا تشرب الخمر فإنها مفتاح كل شر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4034 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4034
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرک سب سے بڑا جرم ہے۔
لہٰذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2)
عقیدہ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔
(3)
شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
(4)
عقل اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
نشہ آور اشیاء کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(5)
نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
شرک سب سے بڑا جرم ہے۔
لہٰذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2)
عقیدہ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔
(3)
شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
(4)
عقل اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
نشہ آور اشیاء کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔
(5)
نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4034]
Sunan Ibn Majah Hadith 4034 in Urdu
هجيمة بنت حيي الأوصابية ← عويمر بن مالك الأنصاري