🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : ما جاء في الوضوء مرة ومرتين وثلاثا
باب: ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً إِلَّا بِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ، فَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ الْقَدْرِ مِنَ الْوُضُوءِ، وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَقَالَ: هَذَا أَسْبَغُ الْوُضُوءِ، وَهُوَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللَّهِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»  اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 419]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔ پھر دو، دو بار وضو کیا تو فرمایا: یہ مقام و مرتبہ رکھنے والا ہے۔ اور تین تین بار وضو کیا تو فرمایا: یہ سب سے کامل وضو ہے، یہ میرا اور ابراہیم خلیل اللہ کا وضو ہے۔ جو شخص اس طرح وضو کرے پھر فارغ ہو کر پڑھے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے وہ چاہے داخل ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7460، ومصباح الزجاجة: 173) (ضعیف جدًا)» ‏‏‏‏ (سند میں عبدالرحیم متروک ہے، ابن معین نے ”کذاب خبیث“ کہا ہے، نیز اس میں زید العمی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4735، والإرواء: 85)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري ما ملخصه: ’’ زيد العمي ضعيف،وابنه عبد الرحيم: متروك بل كذاب و معاوية بن قرة لم يلق ابن عمر ‘‘ زيد العمي
وعبدالرحيم بن زيد: متروك كذبه ابن معين (تقريب: 4055)
وللحديث طرق كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥معاوية بن قرة المزني، أبو إياس
Newمعاوية بن قرة المزني ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥زيد بن الحواري العمي، أبو الحواري
Newزيد بن الحواري العمي ← معاوية بن قرة المزني
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحيم بن زيد العمى، أبو زيد
Newعبد الرحيم بن زيد العمى ← زيد بن الحواري العمي
متروك الحديث
👤←👥مرحوم بن عبد العزيز الأموي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو بشر
Newمرحوم بن عبد العزيز الأموي ← عبد الرحيم بن زيد العمى
ثقة
👤←👥محمد بن خلاد الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن خلاد الباهلي ← مرحوم بن عبد العزيز الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
81
توضأ ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجه
419
هذا وضوء من لا يقبل الله منه صلاة إلا به توضأ ثنتين ثنتين فقال هذا وضوء القدر من الوضوء توضأ ثلاثا ثلاثا هذا أسبغ الوضوء وهو وضوئي ووضوء خليل الله إبراهيم من توضأ هكذا ثم قال عند فراغه أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فتح
سنن ابن ماجه
414
توضأ ثلاثا ثلاثا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 419 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث419
اردو حاشہ:
(1)
یہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم اس میں مذکور مسائل دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

(2)
ایک ایک بار اور تین تین بار وضو کی احادیث بھی پہلے گزرچکی ہیں اور وضو کے بعد مذکورہ بالا دعا آگے حدیث: 470 میں آرہی ہے۔
یہ دعا صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، حدیث: 234)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 419]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 81
اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان۔
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 81]
81۔ اردو حاشیہ: امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا فرض اور دو دو یا تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الوضوء، قبل حدیث: 135]
دیگر محدثین کی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر ابواب بھی قائم کیے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: [صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 157- 159]
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین سے زیادہ دفعہ دھوتا ہے، وہ سنت سے تجاوز اور انحراف کر کے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الطھارة، حدیث: 140، و سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 135]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 81]

Sunan Ibn Majah Hadith 419 in Urdu