علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب : ما جاء في الوضوء مرة ومرتين وثلاثا
باب: ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ:" هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ" أَوْ قَالَ:" وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ، لَمْ يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً، ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ، أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے“، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 420]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور ایک ایک بار وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ لازمی وضو ہے۔“ یا فرمایا: ”یہ ایسا وضو ہے کہ جس نے یہ وضو نہ کیا اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔“ پھر دوبارہ وضو کیا اور فرمایا: ”جو شخص یہ وضو کرے گا اللہ اسے دگنا ثواب دے گا۔“ پھر تین تین بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ میرا اور مجھ سے پہلے رسولوں کا وضو ہے۔۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 65، ومصباح الزجاجة: 174) (ضعیف)» (سند میں عبداللہ بن عرادة اور زید الحواری ’’العمی‘‘ دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف زيد بن الحواري ھو العمي ضعيف وكذلك الراوي عنه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف زيد بن الحواري ھو العمي ضعيف وكذلك الراوي عنه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
420
| هذا وظيفة الوضوء أو قال وضوء من لم يتوضأه لم يقبل الله له صلاة ثم توضأ مرتين مرتين ثم قال هذا وضوء من توضأه أعطاه الله كفلين من الأجر ثم توضأ ثلاثا ثلاثا هذا وضوئي ووضوء المرسلين من قبلي |
Sunan Ibn Majah Hadith 420 in Urdu
عبيد بن عمير الجندعي ← أبي بن كعب الأنصاري