🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : الرياء والسمعة
باب: ریا اور شہرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4204
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ , فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" , قَالَ: قُلْنَا: بَلَى , فَقَالَ:" الشِّرْكُ الْخَفِيُّ , أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4204]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (گھر سے) باہر تشریف لائے جب کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں (فرمائیے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھپا ہوا شرک (وہ یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اپنی نماز خوبصورت بناتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4129، ومصباح الزجاجة: 1498)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں کیثر بن زید اور ربیح بن عبد الرحمن میں ضعف ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور جب کوئی شخص نہ ہو تو جلدی جلدی پڑھ لے، معاذ اللہ، ریا کتنی بری بلا ہے اس کو شرک فرمایا جسے بخشا نہ جائے گا، ایسے ہی ریا کا عمل کبھی قبول نہ ہو گا: «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا» (سورة الكهف: 110) اس آیت میں شرک سے ریا ہی مراد ہے اور عمل صالح وہی ہے جو خالص اللہ کی رضامندی کے لئے ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اللہ کی رضا حاصل کrنے کے لیے ہر طرح کے اعمال شرک سے بچتے ہوئے سنت صحیحہ کے مطابق زندگی گزارے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول فرمائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري، أبو محمد، أبو حفص، أبو جعفر
Newعبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥ربيح بن عبد الرحمن الخدري
Newربيح بن عبد الرحمن الخدري ← عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥كثير بن زيد الأسلمي، أبو محمد
Newكثير بن زيد الأسلمي ← ربيح بن عبد الرحمن الخدري
صدوق يخطئ
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← كثير بن زيد الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4204
ألا أخبركم بما هو أخوف عليكم عندي من المسيح الدجال قال قلنا بلى فقال الشرك الخفي أن يقوم الرجل يصلي فيزين صلاته لما يرى من نظر رجل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4204 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4204
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ریاکاری دجال سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ دجال کھلا دشمن ہے اس کا کفر واضح ہے جبکہ ریاکار کا عمل بظاہر نیکی کا عمل ہوتا ہے۔

(2)
اسے پوشیدہ شرک اس لیے کہا گیا ہے کہ دجال کھلا دشمن ہے کہ کسی بت درخت قبر چاند سورج وغیرہ کی پوجا کرنے والا سب کو نظر آتا ہے کہ یہ غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہے۔
اس کا شرک واضح ہوتا ہے۔
لیکن ریاکاری کرنےوالا بظاہر اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے یا رکوع، سجود میں مشغول ہوتا ہے اسے دیکھ کر یہ پتا نہیں چلتا کہ کہ یہ اللہ کی رضا کے لیے نماز نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنے نفس کی پوجا کر رہا ہے۔

(3)
اگر نیکی کرنے والی کی نیت یہ ہو کہ اس کی تعریف کی جائے تو یہ ریا ہے لیکن اس کی نیت یہ نہیں لوگوں کو ویسے ہی اس کی نیکی کا علم ہوجاتا ہے اور وہ تعریف کرتے ہیں اس میں عمل کرنے والے کا قصور نہیں۔

(4)
جس طرح یہ جائز نہیں کہ نماز پڑھنے والے کو کوئی دیکھ لے تو وہ نماز لمبی کردے اس طرح یہ بھی درست نہیں کہ لمبی سور ت پڑھنا شروع کی ہےاچانک کوئی آگیا تو نماز مختصر کردے بلکہ اپنی پہلی نیت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

(5)
نماز کے علاوہ دوسرے اعمال کا بھی یہی حکم ہے مثلاً:
صدقہ، جہاد وغیرہ
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4204]

Sunan Ibn Majah Hadith 4204 in Urdu