🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : ذكر البعث
باب: حشر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ , فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَلَطَمَهُ , قَالَ: تَقُولُ هَذَا وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68 , فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ , فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي , أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَمَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى , فَقَدْ كَذَبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» اور صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بیہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے (سورۃ الزمر: ۶۸)، میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے، اور جس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے غلط کہا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15076، ومصباح الزجاجة: 1531)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 42 (2373) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یونس علیہ السلام سے غلطی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دیا تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کی شان بڑی ہے اور نبوت اور رسالت کا مرتبہ سب کو حاصل ہے لہذا اپنی رائے سے ایک کو دوسرے پر فضیلت مت دو، بعضوں نے کہا کہ یہ حدیث پہلے کی ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ آپ تمام انبیاء کے سردار ہیں اور انجیل مقدس میں مذکور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ اس جہاں کا سردار آتا ہے، یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک نبی کو دوسرے نبی پر اس طرح فضیلت مت دو کہ دوسرے نبی کی تحقیر یا توہین نکلے کیونکہ کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4274
ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4274 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4274
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمانوں میں اپنے دین کی غیرت مطلوب ہے۔
لیکن اس کا اظہار ایسے انداز سے ہوجس سے کسی دوسرے نبی کی تحقیر نکلتی ہو توجائز نہیں۔

(2)
صحابی نے یہودی کو اس لئے تھپڑ مارا تھا کہ اس کے کلام سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا اشارہ ملتا تھا۔
اور یہ حرکت ناشائستہ تھی۔

(3)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جزوی افضیلت کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ سچی بات بھی اس انداز سے نہیں ہونی چاہیے۔
جس سے غلط مفہوم سمجھے جانے کا اندیشہ ہو۔

(4)
قیامت کے حالات غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان میں سے جتنی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوگئی۔
اورجو نہیں بتائی گئی۔
وہ معلوم نہیں ہوئی۔
اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کلی علم غیب کا عقیدہ درست نہیں۔

(5)
عرش اللہ کی مخلوق ہے۔
جس کے پائے ہیں۔
قیامت کے دن اسے سب دیکھیں گے۔
اور بعض خاص نیکیوں کے عامل اس کے سائے میں محشر کی شدتوں سے محفوظ ہوں گے۔

(6)
صور کی آواز سے جو لوگ بے ہوش نہیں ہوں گے۔
ان کی وضاحت حدیث میں نہیں اس میں اپنی طرف سے رائے زنی مناسب نہیں۔

(7)
مذکورہ حدیث میں صور میں پھونکنے کی بابت یہ مروی ہے کہ صور میں دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔
پہلی اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کےدرمیان کتنا فاصلہ ہوگا؟ اس کی بابت حضرت ابو ہریرہ ۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دونوں مرتبہ صور پھونکنے میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔
لوگوں نے کہا:
ابو ہریرہ چالیس دن کا؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔
پھر انہوں نے کہا چالیس برس کا؟ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔
انھوں نے کہا چالیس مہینے کا؟ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آدمی کا سارا بدن بوسیدہ ہوجائےگا۔ (گل سڑ جائے گا)
مگر ریڑھ کی ہڈی کا سر باقی رہے گا۔
پھر قیامت کے دن اسی سے آدمی کا ڈھانچہ کھڑا کیا جائے گا۔ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4814)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4274]