🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : ذكر البعث
باب: حشر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ صَاحِبَيِ الصُّورِ بِأَيْدِيهِمَا أَوْ فِي أَيْدِيهِمَا قَرْنَانِ , يُلَاحِظَانِ النَّظَرَ مَتَى يُؤْمَرَانِ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک «صور» والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں «صور» ۱؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4193، ومصباح الزجاجة: 1529) (منکر)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاہ وعطیہ العوفی ضعیف ہیں، اور حجاج نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اس لئے یہ لفظ منکر ہے، محفوظ حدیث «صاحب القرن» ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1079)
وضاحت: ۱؎: «صور» کی جمع «اصوار» یعنی نرسنگا، اور بگل۔
قال الشيخ الألباني: منكر والمحفوظ بلفظ صاحب القرن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة وعطية العوفي : ضعيفان (تقدما:496 ، 576)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← عطية بن سعد العوفي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥عباد بن العوام الكلابي، أبو سهل
Newعباد بن العوام الكلابي ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عباد بن العوام الكلابي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3243
قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا
جامع الترمذي
2431
كيف أنعم وصاحب القرن قد التقم القرن واستمع الإذن متى يؤمر بالنفخ فينفخ فكأن ذلك ثقل على أصحاب النبي فقال لهم قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا
سنن ابن ماجه
4273
صاحبي الصور بأيديهما أو في أيديهما قرنان يلاحظان النظر متى يؤمران
المعجم الصغير للطبراني
750
كيف أنعم وصاحب القرن قد التقم القرن وحنى جبهته ينتظر متى يؤمر قالوا يا رسول الله فما تأمرنا قال قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل
مسندالحميدي
771
كيف أنعم وقد التقم صاحب القرن القرن، وحنى جبهته، وأصغى سمعه ينتظر متى يؤمر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4273 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4273
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صور(نرسنگا)
ایک قسم کا بگل ہوتا تھا۔
جو کسی جانور کے سینگ سے بنایا جاتا تھا۔

(2)
مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم قرآن مجید میں صور پھونکنے کی بابت یہ ارشاد الٰہی ہے۔
جس کامفہوم یہ ہے۔
اور صور میں پھونکا جائے گا۔
تو جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔
وہ بے ہوش ہوجائے گا۔
سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔
پھر اس میں دوسری بار پھونکا جائے گا۔
تو وہ یکایک کھڑے ہوکردیکھنے لگیں گے۔ (الزمر: 39، 68)

(3)
صور کی حقیقت وکیفیت سے اللہ ہی باخبر ہے۔
ہمیں جتنی بات بتائی گئی ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2431
صور کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2431]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 1079)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2431]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3243
سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3243]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ:
﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الأَرْضِ﴾ (الزمر: 68) کی تفسیرمیں ذکرکی ہے۔

نوٹ:
(سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3243]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:771
771- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں نعمتوں سے کیسے لطف اندوز ہوسکتا ہوں؟ جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی چمکی ہوئی ہے، اور اس نے اپنی سماعت کو متوجہ رکھا ہوا ہے، اور وہ اس بات کا انتظار کررہا ہے، اسے کب حکم ہوگا؟ (کہ وہ صور میں پھونک ماردے) لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» ہمارے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:771]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ صور کا پھونکا جاناحق ہے، جس فرشتے نے صور پھونکنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ﴾ (الانعام 73)
جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔
ہمارا ایمان ہے کہ صور میں دو بار پھونکا جائے گا پہلی بار پھونکے جانے سے تمام زندہ لوگ فوت ہو جائیں گے۔ دوسری بار پھونکے جانے سے تمام مردہ زندہ ہو جائیں گے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 771]