سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ : صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4284
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرجل , يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ , وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ , وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ , فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: لَا , فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ , فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيَقُولُ: وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ , أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ , قَالَ: فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: ”جی ہاں“ پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ”نہیں“ نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: ”جی ہاں“ اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» ”اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر“ (سورة البقرة: 143) کا مطلب ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4284]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا، اس کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے (جو اس پر ایمان لائے) اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ صرف تین آدمی ہوں گے۔ (اسی طرح تمام نبیوں علیہ السلام کے ساتھ) زیادہ اور کم افراد ہوں گے۔ نبی سے کہا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم کو (اللہ کے احکام) پہنچا دیے تھے؟ وہ نبی فرمائے گا: ہاں۔ اس قوم کو بلا کر کہا جائے گا: کیا اس نے تمہیں (اللہ کے احکام) پہنچا دیے تھے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ (نبی سے) کہا جائے گا: آپ کا گواہ کون ہے؟ وہ فرمائے گا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے کہا جائے گا کہ کیا اس نبی نے (اپنی قوم کو اللہ کے) احکام پہنچائے تھے؟ مومن کہیں گے: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں کیا معلوم؟ مومن کہیں گے: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ انبیائے کرام علیہ السلام نے (اپنی اپنی امت کو اللہ کے احکام) پہنچائے تھے۔ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا تسلیم کیا۔ اللہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [سورة البقرة: 143] ”اور (جیسے ہم نے تمہیں ہدایت دی، اسی طرح) ہم نے تمہیں افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3339)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 3 (2961)، (تحفة الأشراف: 4003)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 32، 58) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4284
| يجيء النبي يوم القيامه ومعه الرجل يجيء النبي ومعه الرجلان يجيء النبي ومعه الثلاثة وأكثر من ذلك وأقل هل بلغت قومك فيقول نعم فيدعى قومه فيقال هل بلغكم فيقولون لا فيقال من يشهد لك فيقول محمد وأمته فتدعى أمة محمد فيقال هل بلغ هذا فيقولون نعم فيقول وما علمكم ب |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4284 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4284
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وسط کا مطلب درمیانہ بہتر اور افضل ہوتا ہے امت محمدیہ کو دوسری امتوں پر یہ افضلیت حاصل ہے کہ ہم پہلے انبیائے کرام پر بھی بغیر دیکھے ایمان رکھتے ہیں۔
اور اس کامطلب معتدل بھی ہے یعنی افراط وتفریط سے پاک اسلام کی تعلیمات افراط وتفریط سے پاک ہیں۔
(2)
اللہ کے تمام انبیاء علیہ السلام سچے اور مخلص تھے۔
انھوں نے اپنے فرائض بڑی تندہی اور خلوص سے انجام دیے۔
(3)
امت محمدیہ کی شہادت اس یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی جو قرآن وحدیث سے حاصل ہوا کیونکہ وحی کے زریعے سے حاصل ہونے والا علم آنکھوں دیکھے واقعہ کے علم سے زیادہ یقینی ہے
(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی امت کی گواہی کی تصدیق اور تایئد کے لئے ہوگی۔
(5)
اس آیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر ہونے پراستدلال درست نہیں ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سب امتی بھی حاضر ناضر ہیں جو نبیوں کے حق میں گواہی دیں گے۔
فوائد و مسائل:
(1)
وسط کا مطلب درمیانہ بہتر اور افضل ہوتا ہے امت محمدیہ کو دوسری امتوں پر یہ افضلیت حاصل ہے کہ ہم پہلے انبیائے کرام پر بھی بغیر دیکھے ایمان رکھتے ہیں۔
اور اس کامطلب معتدل بھی ہے یعنی افراط وتفریط سے پاک اسلام کی تعلیمات افراط وتفریط سے پاک ہیں۔
(2)
اللہ کے تمام انبیاء علیہ السلام سچے اور مخلص تھے۔
انھوں نے اپنے فرائض بڑی تندہی اور خلوص سے انجام دیے۔
(3)
امت محمدیہ کی شہادت اس یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی جو قرآن وحدیث سے حاصل ہوا کیونکہ وحی کے زریعے سے حاصل ہونے والا علم آنکھوں دیکھے واقعہ کے علم سے زیادہ یقینی ہے
(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی امت کی گواہی کی تصدیق اور تایئد کے لئے ہوگی۔
(5)
اس آیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر ہونے پراستدلال درست نہیں ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سب امتی بھی حاضر ناضر ہیں جو نبیوں کے حق میں گواہی دیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4284]
Sunan Ibn Majah Hadith 4284 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري