یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب : ما جاء في بول الصبي الذي لم يطعم
باب: کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ:" يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: ”بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 525]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیر خوار کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: ”لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے۔“ ابوالحسن بن سلمہ نے کہا: ہمیں احمد بن موسیٰ نے، انہیں ابوالیمان مصری نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے اس حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کیا (جس میں یہ حکم ہے کہ) ”لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جائے۔“ (میں نے پوچھا اس فرق کی کیا وجہ ہے جبکہ) دونوں پیشاب ایک ہی چیز ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے۔“ پھر کہا: ”سمجھ گئے؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں (میں نہیں سمجھا)۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو (انہیں مٹی اور پانی سے پیدا کیا اور) حضرت حوا علیہا السلام ان کی چھوٹی پسلی سے پیدا ہوئیں۔ گویا لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے وجود میں آیا ہے (جس سے حضرت آدم علیہ السلام بنے تھے) اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے (جس سے حضرت حوا علیہا السلام کی تخلیق ہوئی) اب سمجھ گئے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تجھے (علم و فہم) سے فائدہ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 137 (377)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (610)، الصلاة 430 (610)، (تحفة الأشراف: 10131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (377۔378) ترمذي (610)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (377۔378) ترمذي (610)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
610
| ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية |
سنن ابن ماجه |
525
| ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية |
حدیث نمبر: 525M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَالْمَاءَانِ جَمِيعًا وَاحِدٌ؟ قَالَ:" لِأَنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَبَوْلَ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، ثُمَّ قَالَ لِي: فَهِمْتَ، أَوْ قَالَ: لَقِنْتَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، خُلِقَتْ حَوَّاءُ مِنْ ضِلْعِهِ الْقَصِيرِ، فَصَارَ بَوْلُ الْغُلَامِ مِنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَصَارَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ مِنَ اللَّحْمِ وَالدَّمِ، قَالَ: قَالَ لِي: فَهِمْتَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ لِي: نَفَعَكَ اللَّهُ بِهِ".
ابوالیمان مصری کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث «يرش من الغلام، ويغسل من بول الجارية» بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے کے متعلق پوچھا کہ دونوں میں فرق کی کیا وجہ ہے جب کہ پیشاب ہونے میں دونوں برابر ہیں؟ تو امام شافعی نے جواب دیا: لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے بنا ہے، اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے، اس کے بعد مجھ سے کہا: کچھ سمجھے؟ میں نے جواب دیا: نہیں، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کی چھوٹی پسلی سے حواء پیدا کی گئیں، تو بچے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہوا، اور بچی کا پیشاب خون اور گوشت سے، پھر مجھ سے پوچھا: سمجھے؟ میں نے کہا: ہاں، اس پر انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نفع بخشے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 525M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sunan Ibn Majah Hadith 525 in Urdu
أبو الأسود الدؤلي ← علي بن أبي طالب الهاشمي