Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب في الغسل من الجنابة
باب: غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏(تفرد بہ ابن ماجہ) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن ابو ہریرہ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، یہ حدیث تحفة الاشراف میں «فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد» کے زیر عنوان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی ابن حجر نے «النكت الظراف» میں اس پر کوئی استدراک کیا ہے، اور نہ ہی یہ مصباح الزجاجة میں موجود ہے لیکن «غاية المقصد في زوائد المسند (ق 37)» میں موجود ہے، ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ماجہ کے قدیم نسخوں میں یہ حدیث موجود نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي ضعيف الحفظ مشھور بالتدليس القبيح (انظر ضعيف سنن أبي داود: 452) وفضيل يروي عن عطية الموضوعات قاله ابن حبان في المجروحين (2/ 209)
والحديث الآتي (الأصل: 577) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن
Newعطية بن سعد العوفي ← أبو سعيد الخدري
ضعيف الحديث
👤←👥الفضيل بن مرزوق الأغر، أبو عبد الرحمن
Newالفضيل بن مرزوق الأغر ← عطية بن سعد العوفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الفضيل بن مرزوق الأغر
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
576
الغسل من الجنابة فقال ثلاثا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 576 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث576
اردو حاشہ:
وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ صفائی اور طھارت کا اہتمام کرنے والے تھے۔
اس کے باوجود تین لپ پانی آپ کے لیے کافی ہوتا تھااس لیے تمھارے لیے بھی یہ کافی ہونا چاہیے۔
دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تجھ سے زیادہ پاک تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طہارت کا کوب کیال رکھتے تھے۔
بہر حال دونوں انداز سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ صفائی کے لیے زیادہ پانی ضائع کرنا ضروری نہیں۔
مناسب طریقے سے سر دھویا جائے تو تھوڑا پانی بھی کفایت کرسکتا ہے۔ 2۔
مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے کیونکہ بعد والی صحیح روایت میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 576]