سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : وقت صلاة الظهر
باب: نماز ظہر کا وقت۔
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا".
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ریت کی گرمی (زمین کی تپش) کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 675]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کی تپش کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت دور نہ فرمائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3512)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 33 (619)، سنن النسائی/المواقیت 2 (498) مسند احمد (5/108، 110) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نماز کی تاخیر گوارا نہ کی، اور ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
498
| شكونا إلى رسول الله حر الرمضاء فلم يشكنا |
صحيح مسلم |
1406
| شكونا إليه حر الرمضاء فلم يشكنا |
صحيح مسلم |
1405
| شكونا إلى رسول الله الصلاة في الرمضاء فلم يشكنا |
سنن ابن ماجه |
675
| شكونا إلى رسول الله حر الرمضاء فلم يشكنا |
مسندالحميدي |
152
| شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حر الرمضاء فلم يشكنا |
مسندالحميدي |
153
| شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الرمضاء فلم يشكنا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 675 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث675
اردو حاشہ:
(1)
(الرَّمْضَاءِ)
اس ریت کو کہتے ہیں جو سورج کی دھوپ سے تپ کر گرم ہوچکی ہو۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی درخواست یہ تھی کہ چونکہ دھوپ سے ریت گرم ہوجاتی ہے تو گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز ادا کرتے وقت سجدہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔
اگر نماز کچھ مؤخر کرلی جائے جس سے ریت کی حرارت میں کمی ہوجائے تو مناسب ہوگا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست منظور نہ فرمائی بلکہ گرمی کے موسم میں بھی جلدی نماز پڑھاتے رہے۔
(3)
دوسری احادیث میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا ذکر ہے۔ (جیسا کہ آگے باب 4 میں احادیث آ رہی ہے۔)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی تاخیر ہو سکتی ہے لیکن مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
ایسا نہ ہو کہ تاخیر کرتے کرتے نماز کو اس کے آخر وقت میں ادا کریں۔
(1)
(الرَّمْضَاءِ)
اس ریت کو کہتے ہیں جو سورج کی دھوپ سے تپ کر گرم ہوچکی ہو۔
(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی درخواست یہ تھی کہ چونکہ دھوپ سے ریت گرم ہوجاتی ہے تو گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز ادا کرتے وقت سجدہ کرنا دشوار ہوتا ہے۔
اگر نماز کچھ مؤخر کرلی جائے جس سے ریت کی حرارت میں کمی ہوجائے تو مناسب ہوگا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست منظور نہ فرمائی بلکہ گرمی کے موسم میں بھی جلدی نماز پڑھاتے رہے۔
(3)
دوسری احادیث میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا ذکر ہے۔ (جیسا کہ آگے باب 4 میں احادیث آ رہی ہے۔)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی تاخیر ہو سکتی ہے لیکن مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
ایسا نہ ہو کہ تاخیر کرتے کرتے نماز کو اس کے آخر وقت میں ادا کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 675]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 498
ظہر کے اول وقت کا بیان۔
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
498 ۔ اردو حاشیہ: اگرچہ آپ گرمیوں کی شدت میں نماز ظہر کو کچھ مؤخر کرتے تھے جیسا کہ آگے آرہا ہے، مگر اس وقت تک بھی زمین گرم ہی رہتی ہے، لہٰذا آمدورفت اور نماز کی ادائیگی میں گرم زمین تکلیف دیتی تھی۔ ظاہر ہے نماز کو اتنا مؤخر نہیں کیا جا سکتاکہ عصر کا وقت ہو جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 498]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:153
فائدہ:
دیگر احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گرمی میں نماز ظہر کو کچھ ٹھنڈا کر کے پڑھنا چاہیے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ (الدیباج: 6/53) اور ابراد والی حدیث ناسخ ہے۔
دیگر احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گرمی میں نماز ظہر کو کچھ ٹھنڈا کر کے پڑھنا چاہیے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ (الدیباج: 6/53) اور ابراد والی حدیث ناسخ ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 153]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1405
حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گرمی میں نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1405]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الرَّمضَآء:
گرم ریت۔
حَرَّالرَّمضَاء:
گرم ریت کی تپش۔
مفردات الحدیث:
الرَّمضَآء:
گرم ریت۔
حَرَّالرَّمضَاء:
گرم ریت کی تپش۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1405]
حدیث نمبر: 675M
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 675M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sunan Ibn Majah Hadith 675 in Urdu
حارثة بن مضرب العبدي ← خباب بن الأرت التميمي