🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : النهي عن إنشاد الضوال في المسجد
باب: مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی، (نماز کے بعد) ایک آدمی بولا: مجھے کون سرخ اونٹ کی اطلاع دے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے وہ (اونٹ) نہ ملے۔ مسجدیں تو جس کام کے لیے بنی ہیں اسی کے لیے ہی بنی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 18 (569)، (تحفة الأشراف: 1936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349، 420) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي
Newسليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥سعيد بن سنان البرجمي، أبو سنان
Newسعيد بن سنان البرجمي ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سعيد بن سنان البرجمي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1263
بنيت المساجد لما بنيت له
صحيح مسلم
1262
لا وجدت إنما بنيت المساجد لما بنيت له
سنن ابن ماجه
765
لا وجدته إنما بنيت المساجد لما بنيت له
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 765 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث765
اردو حاشہ: (1) (ضالة)
گمشدہ جانور کو کہا جاتا ہے تاہم دوسری گمشدہ اشیاء پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔

(2)
اس بد دعا کا مقصد اس اعلان سے ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔
یہ بھی تنبیہ کا ایک اسلوب ہے۔

(3)
مسجدوں کی تعمیر کا مقصد نماز کی ادائیگی وعظ ونصیحت اور تعلیم وتعلم ہے، مسجد سے باہر گم ہونے والی چیزوں کی تلاش نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 765]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1262
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا کہ سرخ اونٹ کے بارے میں کون بتائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے نہ ملے، مسجدیں صرف انہیں کاموں کے لیے بنی ہیں جن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1262]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مسجد بنانے کا اصل مقصد نماز،
تلاوت،
ذکر و اذکار اور دین کی تعلیمات اور وعظ و نصیحت ہے،
اور لوگوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھا کر گمشدہ چیز کا اعلان کرنا ان مقاصد کے منافی ہے حتی کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علمی بحث اور مذاکرہ کو بھی آواز کے بلند ہو جانے کی بنا پر ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ انسان اپنی ذات کی ضرورت کے لیے مسجد میں سوال بھی نہیں کر سکتا،
صرف دینی ضرورت کے لیے یا مفادِعامہ کی چیز کا سوال کر سکتا ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گمشدہ اونٹ کے بارے میں اعلان کرنے والے کو رَحْمَةٌ الِّلْعَالَمِیْن ہونے کے باوجود بدعا دی،
جس سے ثابت ہوتا ہے مسجد سے خارج گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنا درست نہیں ہے۔
خاص کر نماز اور تعلیم وتدریس کے اوقات میں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1262]

Sunan Ibn Majah Hadith 765 in Urdu