سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : المرور بين يدي المصلي
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 945
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ ، يَسْأَلُهُ، مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ"، قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ".
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 945]
بسر بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیغام بھیجا (کہ یہ بتایئے) آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے آگے سے کسی کے گزرنے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ جب اس کا بھائی نماز پڑھ رہا ہو تو اس (نمازی) کے آگے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔ معلوم نہیں چالیس سال فرمایا، یا چالیس ماہ یا چالیس دن۔۔۔ تک ٹھہرنے کو بہتر سمجھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 101 (510)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (507)، سنن ابی داود/الصلاة 109 (701)، سنن الترمذی/الصلاة 135 (336)، سنن النسائی/القبلة 8 (757)، (تحفة الأشراف: 11884)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 10 (34)، مسند احمد (4/169)، سنن الدارمی/الصلاة 130 (1457) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بہر حال نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب نمازی کے قریب سے گزرے، بعض نے کہا تین ہاتھ کے اندر، اور کسی نے کہا پانچ ہاتھ کے اندر، اور بعض لوگوں نے چالیس ہاتھ کی دوری کا ذکر کیا ہے، نیز بعض لوگوں نے کہا کہ سجدہ کے مقام پر دیکھے تو جہاں تک اس کی نظر جاتی ہو اس کے اندر سے گزرنا گناہ ہے، اس کے آگے گزرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحارث بن الصمة الأنصاري، أبو جهيم | صحابي | |
👤←👥بسر بن سعيد الحضرمي بسر بن سعيد الحضرمي ← الحارث بن الصمة الأنصاري | ثقة | |
👤←👥سالم بن أبي أمية القرشي، أبو النضر سالم بن أبي أمية القرشي ← بسر بن سعيد الحضرمي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سالم بن أبي أمية القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
510
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه |
صحيح مسلم |
1132
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه |
جامع الترمذي |
336
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خير له من أن يمر بين يديه |
سنن أبي داود |
701
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خير له من أن يمر بين يديه |
سنن النسائى الصغرى |
757
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه |
سنن ابن ماجه |
945
| لو يعلم أحدكم ما له أن يمر بين يدي أخيه وهو يصلي كان لأن يقف أربعين |
بلوغ المرام |
180
| لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه من الإثم لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه |
مسندالحميدي |
836
| لأن يمكث أحدكم أربعين، خير له من أن يمر بين يدي المصلي |
Sunan Ibn Majah Hadith 945 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← الحارث بن الصمة الأنصاري