🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب : الاستواء للجلوس عند الرفع من السجدتين
باب: دونوں سجدوں سے اٹھتے وقت بیٹھنے کے لیے سیدھا ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1152
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ:" أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے (جلسہ استراحت کرتے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1152]
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: میں چاہتا ہوں، میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے جب پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے سر اٹھایا تو بیٹھ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 45 (677)، 127 (802)، 140 (818)، سنن ابی داود/الصلاة 142 (842، 843)، (تحفة الأشراف: 11185)، مسند احمد 3/436، 5/53 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا ترک تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مالك بن الحويرث الليثي، أبو سليمانصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ
👤←👥زياد بن أيوب الطوسي، أبو هاشم
Newزياد بن أيوب الطوسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
677
يجلس إذا رفع رأسه من السجود قبل أن ينهض في الركعة الأولى
سنن أبي داود
842
رفع رأسه من السجدة الآخرة في الركعة الأولى قعد ثم قام
سنن أبي داود
843
قعد في الركعة الأولى حين رفع رأسه من السجدة الآخرة
سنن النسائى الصغرى
1152
قعد في الركعة الأولى حين رفع رأسه من السجدة الآخرة
Sunan an-Nasa'i Hadith 1152 in Urdu