یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : التكبير إذا قام من الركعتين
باب: دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ" , فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا , فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَكَتَ , فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ: وَعُثْمَانُ , قَالَ: وَعُثْمَانُ.
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1180]
حضرت عبدالرحمن بن اصم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: تکبیر ( «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“) کہے جب رکوع کرے، جب سجدہ کرے، جب سجدے سے سر اٹھائے اور جب دو رکعتوں سے کھڑا ہو۔ حطیم نے ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے یاد رکھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، پھر خاموش ہو گئے۔ حطیم نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ فرمایا: ہاں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 987)، مسند احمد 3/125، 132، 179، 251، 257، 262 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
866
| يرفع يديه إذا دخل في الصلاة وإذا ركع |
سنن النسائى الصغرى |
1055
| أتموا الركوع والسجود إذا ركعتم وسجدتم |
سنن النسائى الصغرى |
1180
| يكبر إذا ركع وإذا سجد وإذا رفع رأسه من السجود وإذا قام من الركعتين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1180 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1180
1180۔ اردو حاشیہ: تکبیر تحریمہ تو متفق علیہ ہے، نیز اس میں کوئی سستی نہیں کرتا تھا، اس لیے اس کا ذکر نہیں کیا۔ باقی تکبیرات میں بعض ائمہ سستی کر جاتے تھے، اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1180]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1055
رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
1055۔ اردو حاشیہ:
➊ مکمل کرنے سے مراد اعتدال، اطمینان اور تسبیحات و اذکار کا پڑھنا ہے جن کی تفصیل سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔
➋ امام کو گاہے گاہے نماز کے احکام کی تلقین کرتے رہنا چاہیے، خصوصاً جب مقتدی ارکان نماز صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں۔
➊ مکمل کرنے سے مراد اعتدال، اطمینان اور تسبیحات و اذکار کا پڑھنا ہے جن کی تفصیل سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔
➋ امام کو گاہے گاہے نماز کے احکام کی تلقین کرتے رہنا چاہیے، خصوصاً جب مقتدی ارکان نماز صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1055]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1180 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد الله الأصم ← أنس بن مالك الأنصاري