🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : التكبير إذا قام من الركعتين
باب: دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ" , فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے (اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے) تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1181]
حضرت مطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت پوری تکبیر کہتے تھے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا انھوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1083 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
784
يكبر كلما رفع وكلما وضع
صحيح البخاري
786
إذا سجد كبر وإذا رفع رأسه كبر وإذا نهض من الركعتين كبر
صحيح البخاري
826
إذا سجد كبر وإذا رفع كبر وإذا نهض من الركعتين كبر
صحيح مسلم
873
سجد كبر وإذا رفع رأسه كبر وإذا نهض من الركعتين كبر
سنن أبي داود
835
إذا سجد كبر وإذا ركع كبر وإذا نهض من الركعتين كبر
سنن النسائى الصغرى
1181
يكبر في كل خفض ورفع يتم التكبير
سنن النسائى الصغرى
1083
إذا سجد كبر وإذا رفع رأسه من السجود كبر وإذا نهض من الركعتين كبر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1181 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1181
1181۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 1083۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1181]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 835
تکبیر پوری کہنے کا بیان۔
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو «الله اكبر» کہتے، جب رکوع کرتے تو «الله اكبر» کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو «الله اكبر» کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے (راوی کو شک ہے) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 835]
835۔ اردو حاشیہ:
دراصل لوگوں نے تکبیرات انتقال کہنی چھوڑ دی تھیں، تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے اسی سنت کی طرف اشارہ فرمایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 835]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1083
سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1083]
1083۔ اردو حاشیہ:
➊ پیچھے گزر چکا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی کے دور میں بعض ائمہ نے تکبیر کہنے میں سستی شروع کر دی تھی۔ یا تو کہتے ہی نہیں تھے یا بہت آہستہ بلکہ زیر لب کتے تھے۔ یہ نزاکت تھی، کوئی عذر نہ تھا، لہٰذا ایسا کرنا مذموم تھا۔ ہاں عذر ہو تو الگ بات ہے، جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی تکبیر کی آواز پچھلی صفوں کو سنائی نہ دیتی تھی۔
➋ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ وہ کس قدر سنت نبوی کے محافظ اور عامل تھے کہ جب اکثر لوگ تکبیرات انتقال چھوڑ چکے تھے بلکہ بعض ان کی مشروعیت کا انکار بھی کرتے تھے، ایسے وقت میں انہوں نے ان کا احیا (انہیں زندہ) کیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1083]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 873
حضرت مطرف بیان کرتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے اللہ اکبر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے اللہ اکبر کہتے،اور جب دوسری رکعت سے کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، جب ہم نماز سے فارغ ہوتے تو عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، انہوں نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز یاد کرا دی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:873]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
اور احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ واجب فرض ہے اور باقی تکبیریں بھی ان کے نزدیک واجب (فرض)
ہیں اور باقی کے نزدیک سنت،
اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہما کے نزدیک سب تکبرات سنت ہیں صحیح احادیث کا تقاضا تو یہی ہے کہ سب تکبرات کو واجب کہا جائے۔
(2)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث 28 سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ اللہُ لِمَن حَمِدَہ کے بعد قومہ میں دعا پڑھتے تھے اور اس کو منفرداً (تنہا)
نماز پڑھنے پر محمول کرنا،
تاویل بعید ہے۔
اس لیے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف صحیح ہے کہ امام ہو یا منفرد یا مقتدی،
تسمیع کے بعد دعائیہ کلمات پڑھے گا یہ موقف درست نہیں ہے کہ امام صرف سمع اللہ کہے گا۔
اور مقتدی صرف دعائیہ کلمات کہے گا۔
اور اس کے لیے:
(إِذَا قَالَ الإِمَامُ:
سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَه،
فَقُولُوا:
اللهم رَبَّنَا لَكَ الحَمدُ)
سے استدلال درست نہیں ہے۔
اس کا مقصد تو یہ ہے کہ دعائیہ کلمات تسمع کے بعد کہے جائیں گے،
استدلال کی ضرورت تو وہاں ہوتی ہے جہاں صراحت نہ ہو،
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں صراحت ہے یہ تو ایسے ہی ہے کوئی کہے:
(إِذَا قَالَ الْإِمَامُ (غَيْرِالْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَاالضَّالِّينَ فَقُولُوا:
آمِينَ)
کہ امام آمین نہیں کہے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 873]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 826
826. حضرت مطرف سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین ؓ نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، چنانچہ وہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عمران بن حصین ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی یا کہا کہ انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:826]
حدیث حاشیہ:
تشریح:
بعض ائمہ بنی امیہ نے بآواز بلند اس طرح تکبیر کہنا چھوڑدیا تھا جو اسوہ نبوی کے خلاف تھا اس واقعہ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دور سلف میں مسلمانوں کو اسوہ رسول کی اطاعت کا بے حد اشتیاق رہتا تھا خاص طور پر نمازکے بارے میں ان کی کوشش ہوتی کہ وہ عین سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز ادا کر سکیں۔
اس دور آخر میں صرف اپنے اپنے فرضی اماموں کی تقلید کا جذبہ باقی رہ گیا ہے حالانکہ ایک مسلمان کا اولین مقصد سنت نبوی کی تلاش ہونا چا ہیے۔
ہمارے امام ابو حنیفہ ؒ نے صاف فرمادیا ہے کہ ہر وقت صحیح حدیث کی تلاش میں رہو اگر میرا کوئی مسئلہ حدیث کے خلاف نظر آئے تو اسے چھوڑ دو اورصحیح حدیث نبوی پر عمل کرو۔
حضرت امام کی اس پاکیزہ وصیت پر عمل کرنے والے آج کتنے ہیں؟ یہ ہر سمجھ دار مسلمان کے غور کرنے کی چیز ہے یونہی لکیر کے فقیر ہو کر رسمی نمازیں ادا کرتے رہنا اور سنت نبوی کو تلاش نہ کرنا کسی بابصیرت مسلمان کا کام نہیں۔
وقفنا اللہ لما یحب ویرضی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 826]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:784
784. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے ہمراہ بصرہ میں نماز ادا کی تو فرمایا: اس شخص (حضرت علی ؓ) نے ہمیں وہ نماز یاد دلا دی ہے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں سر اٹھاتے اور سر جھکاتے تو اس وقت اللہ أکبر کہتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:784]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ عرصہ بعد حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں ائمۂ مساجد نے نماز پڑھتے وقت تکبیرات انتقال کو ترک کر دیا تھا جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ہمیں وہ نماز یاد دلا دی جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کرتے تھے۔
ہم نے ان تکبیرات انتقال کو بھلا دیا تھا یا دانستہ طور پر چھوڑ بیٹھے تھے۔
(فتح الباري: 349/2) (2)
ترک کا سبب یہ ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی آواز طبعی حیا کی وجہ سے پست تھی یا بڑھاپے کی بنا پر کمزور ہو گئی تھی، چنانچہ نماز پڑھاتے وقت لوگوں کو ان کی تکبیرات سنائی نہیں دیتی تھیں جس سے یہ خیال کر لیا گیا کہ نماز میں تکبیرات انتقال ضروری نہیں۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضرت عثمان اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما اور جناب زیاد کے ترک تکبیرات کے متعلق روایات پیش کی ہیں، مزید لکھا ہے کہ زیاد نے حضرت معاویہ ؓ کو دیکھ کر تکبیرات کو ترک کیا اور حضرت معاویہ نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھ کر انہیں نظر انداز کر دیا۔
(فتح الباري: 349/2) (4)
اس دور میں تکبیرات انتقال کے ترک سے مراد مطلق طور پر تکبیرات چھوڑ دینا نہیں بلکہ بآواز بلند ترک کر دینا ہے، البتہ امام طحاوی نے کچھ لوگوں کے متعلق نقل کیا ہے کہ وہ رکوع اور سجدے میں جاتے وقت تکبیرات نہیں کہا کرتے تھے۔
بہرحال جمہور کے نزدیک تکبیر تحریمہ واجب اور باقی تمام تکبیرات مستحب ہیں، لیکن ہمارے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ تمام تکبیرات واجب ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ترک ثابت نہیں بلکہ آپ ہمیشہ انہیں کہتے رہے ہیں۔
آپ کا فرمان گرامی ہے کہ تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 784]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:826
826. حضرت مطرف سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین ؓ نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی، چنانچہ وہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عمران بن حصین ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی یا کہا کہ انہوں نے ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:826]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے زین بن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام بخاری ؒ نے عنوان اور حضرت ابن زبیر ؓ کے عمل سے مذکورہ احادیث کی وضاحت کی ہے کہ تکبیر کی ابتدا دو رکعت سے فراغت کے بعد اٹھتے وقت ہی ہو جانی چاہیے کیونکہ یہ احادیث اس کے متعلق صریح نہیں ہیں۔
(فتح الباري: 3939/2)
دراصل شارع کا منشا یہ ہے کہ جب نماز میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف انتقال ہو تو حرکت انتقال اللہ کے ذکر سے معمور ہونی چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور احادیث سے ثابت کیا ہے کہ دو رکعت سے فراغت کے بعد تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت ہی اللہ اکبر شروع کر دیا جائے۔
(2)
اس سے مالکیہ کا رد مقصود ہے جن کا موقف ہے کہ جب نمازی سیدھا کھڑا ہو جائے تو پھر "اللہ أکبر" کہے۔
ان کے موقف کے مطابق آخری دونوں رکعات کا پہلی دو رکعات سے تشاکل ہو جائے گا لیکن امور شرعیہ کا مدار یہ نہیں ہے۔
اس کے لیے اسلاف کا تعامل بھی دیکھنا چاہیے اور وہ مالکیہ کے موقف کے برعکس ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 826]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1181 in Urdu