🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : الترغيب في قيام الليل
باب: قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ثُمَّ أَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ثُمَّ أَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ (بھی) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو (بھی) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1611]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھا اور اس نے نماز (تہجد) پڑھی، پھر اس نے اپنی بیوی کو جگایا، اس نے بھی نماز (تہجد) پڑھی اور اگر وہ (اٹھنے سے) انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھی اور اس نے نماز پڑھی، پھر اپنے خاوند کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 307 (1308)، 348 (1450)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 175 (1336)، (تحفة الأشراف: 12860)، مسند احمد 2/250، 436 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ پانی کے چھینٹے مارنے سے وہ جاگ جائے گا، اور نماز پڑھے گا تو وہ بھی اس کی مستحق ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥القعقاع بن حكيم الكناني
Newالقعقاع بن حكيم الكناني ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← القعقاع بن حكيم الكناني
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1611
رحم الله رجلا قام من الليل فصلى ثم أيقظ امرأته فصلت فإن أبت نضح في وجهها الماء رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت ثم أيقظت زوجها فصلى فإن أبى نضحت في وجهه الماء
سنن أبي داود
1450
رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وأيقظ امرأته فصلت فإن أبت نضح في وجهها الماء رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت وأيقظت زوجها فإن أبى نضحت في وجهه الماء
سنن أبي داود
1308
رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وأيقظ امرأته فإن أبت نضح في وجهها الماء رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت وأيقظت زوجها فإن أبى نضحت في وجهه الماء
سنن ابن ماجه
1336
رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وأيقظ امرأته فصلت فإن أبت رش في وجهها الماء رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت وأيقظت زوجها فصلى فإن أبى رشت في وجهه الماء
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1611 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1611
1611۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ ایک آدھ رات کی بات نہیں بلکہ عادت کی بات ہے کہ وہ ایسے کرتے ہیں۔ کیا ہی خوب ہیں یہ میاں بیوی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ان کے لیے دعا بھی ہے، تعریف بھی اور ترغیب بھی، اور یہ حقیقت بھی کہ وہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں۔ وفقنا اللہ ایاہ۔
➋ جس طرح میّت کے لیے رحمت کی دعا کی جاتی ہے، اسی طرح زندہ کے لیے بھی دعائے رحمت کرنا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1611]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1308
تہجد (قیام اللیل) کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1308]
1308. اردو حاشیہ: فائدہ: مذکورہ بالاعمل ﴿تَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ﴾ ... سورۃ المائدۃ کی شاندار عملی تفسیر ہے۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اپنے اعزہ و احباب کو خیر کے کاموں پر زور سے آمادہ کرنا مستحب اور مطلوب عمل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1308]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1450
نماز تہجد پڑھنے کی ترغیب دینے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے، پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1450]
1450. اردو حاشیہ: یہ حدیث پیچھے بھی گزری ہے۔(1308)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1450]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1336
(عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1336]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
میاں بیوی میں سے اگر ایک تہجد پڑھنے کاعادی ہو تو اسے چاہیےکہ دوسرے کو یہ عادت ڈالنے کی کوشش کرے۔

(2)
اگر نیند غالب ہو تو پانی کے چھینٹوں سے بیدار ہونا آسان ہوجائے گا۔
پھر وضو کرکے نماز ادا کی جا سکے گی۔
مطلب یہ ہے کہ پوری کوشش کی جائے۔
کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی بھی اس نیکی سے محروم نہ رہے۔

(3)
نیکی میں تعاون اور ترغیب کا یہ عمل اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1336]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1611 in Urdu