🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب : كم يصلي من نام عن صلاة أو منعه وجع
باب: جو شخص تہجد کی نماز سے سو جائے یا کسی تکلیف کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے تو وہ (دن میں) کتنی رکعتیں پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1790
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز نہیں پڑھ پاتے خواہ نیند نے آپ کو اس سے روکا ہو یا کسی تکلیف نے تو دن کو آپ بارہ رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن الترمذی/الصلاة 210 (445)، (تحفة الأشراف: 16105) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥سعد بن هشام الأنصاري
Newسعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥زرارة بن أوفى العامري، أبو حاجب
Newزرارة بن أوفى العامري ← سعد بن هشام الأنصاري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1790
إذا لم يصل من الليل منعه من ذلك نوم أو وجع صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة
صحيح مسلم
1743
إذا فاتته الصلاة من الليل من وجع أو غيره صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة
جامع الترمذي
445
إذا لم يصل من الليل منعه من ذلك النوم أو غلبته عيناه صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1790 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1790
1790۔ اردو حاشیہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً گیارہ رکعات پڑھتے تھے، لیکن جب کبھی مذکورہ وجوہات کی بنا پر رات کی یہ نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کے وقت گیارہ کی بجائے ایک رکعت کا اضافہ فرما کر ان کو جفت بنا لیتے اور بارہ رکعات پڑھ لیتے۔ اگر گیارہ کی بجائے دس پڑھتے تو نوافل میں کمی رہ جاتی لیکن آپ نے کمی کو پسند نہیں فرمایا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1790]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 445
تہجد پڑھے بغیر سو جائے تو اسے دن میں پڑھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں (اس کے بدلہ میں) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 445]
اردو حاشہ:
1؎:
صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
جس کی رات کی نفل (نمازِ تہجد) قضا ہو جائے،
اور وہ انہیں طلوع فجر اور ظہر کے بیچ پڑھ لے توغافلوں میں نہیں لکھا جائے گا،
شاید بارہ کبھی اس لیے پڑھی ہوں گی کہ وتراس رات عشاء کے بعد ہی پڑھ چکے ہوں گے،
اور وتر دو بار نہیں پڑھی جاتی،
یا جس رات میں یہ اندازہ ہوتا کہ پوری گیارہ رکعتیں آج نہیں پڑھ پاؤں گا اس رات وتر رات ہی پڑھ لیتے ہوں گے یا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کے وقت بارہ رکعت پڑھتے تھے تو وتر کو جُفت کر لیتے ہوں گے،
واللہ اعلم۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 445]