علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب : متى يقضي من نام عن حزبه من الليل
باب: جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے؟
حدیث نمبر: 1791
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی رات کو اپنے وظیفہ سے، یا اس کی کسی چیز سے سو جائے، پھر وہ اسے فجر سے لے کر ظہر تک کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1791]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو اپنی مقرر شدہ مکمل یا کچھ نماز سے سویا رہا (نہ پڑھ سکا)، پھر وہ اسے فجر کی نماز (طلوعِ شمس) سے نمازِ ظہر تک پڑھ لے تو اس کا ثواب یوں لکھا جائے گا گویا اس نے رات کو پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن ابی داود/الصلاة 309 (1313)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة 56) (581)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 177 (1343)، (تحفة الأشراف: 10592)، موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد 1/32، 53، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1791
| من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل |
صحيح مسلم |
1745
| من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل |
جامع الترمذي |
581
| من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل |
سنن أبي داود |
1313
| من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل |
سنن ابن ماجه |
1343
| من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل |
المعجم الصغير للطبراني |
305
| من نام عن حزبه من الليل ، فقرأ به من الهاجرة إلى الظهر فكأنما قرأه من الليل |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1791 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1791
1791۔ اردو حاشیہ: البتہ دو چیزیں ملحوظ رکھے۔ وقت نفل نماز کے لیے مکروہ نہ ہو اور طاق کی بجائے ایک رکعت زائد کر کے جفت پڑھے۔ یہ تب ہے جب رات کے نوافل کی ادائیگی کرنی ہو، لیکن اگر صرف وتر کی ادائیگی ہی مقصود ہے تو طاق وتر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1791]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1313
جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1313]
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1313]
1313. اردو حاشیہ: فائدہ: نوافل کی قضائی دینا‘ مندوب ومستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1313]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1343
جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1343]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1343]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
نماز تہجد میں قرآن مجید کی کوئی خاص مقدار تلاوت کرنے کا معمول بنا لینا درست ہے۔
(2)
تلاوت اور ذکر واذکار کےلئے کوئی وقت مکروہ نہیں۔
(3)
رات کے نوافل اور تلاوت کا ثواب زیادہ ہے لیکن مذکورہ صورت میں دن کے وقت بھی پورا ثواب ملے گا۔
گویا عذر شرعی عند اللہ معتبر ہے اور اس کی وجہ سے ہو جانے والی کوتاہی کالعدم متصور ہوگی-
فوائد ومسائل:
(1)
نماز تہجد میں قرآن مجید کی کوئی خاص مقدار تلاوت کرنے کا معمول بنا لینا درست ہے۔
(2)
تلاوت اور ذکر واذکار کےلئے کوئی وقت مکروہ نہیں۔
(3)
رات کے نوافل اور تلاوت کا ثواب زیادہ ہے لیکن مذکورہ صورت میں دن کے وقت بھی پورا ثواب ملے گا۔
گویا عذر شرعی عند اللہ معتبر ہے اور اس کی وجہ سے ہو جانے والی کوتاہی کالعدم متصور ہوگی-
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1343]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1745
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے وظیفہ (معمول) سے سویا رہا یا اس کے کچھ حصہ سے سو گیا، اور اس نے اسے نماز فجر اور نمازظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اسے اس کے لیے ایسے ہی رکھا جائے گا گویا کہ اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1745]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر انسان کا رات کے کسی حصہ میں کوئی ورد یا وظیفہ اور عمل ہو اور وہ کسی وجہ سے رات کو وہ عمل یا وظیفہ نہ کر سکے تو اسے اس پر ہمیشگی ودوام کو بر قرار رکھنے کے لیے دن کو ظہر سے پہلے پہلے کر لینا چاہیے۔
اس طرح وہ رات کو ادا کیا گیا عمل ہی شمار ہو گا اور اس کا دوام برقرار رہے گا۔
فوائد ومسائل:
اگر انسان کا رات کے کسی حصہ میں کوئی ورد یا وظیفہ اور عمل ہو اور وہ کسی وجہ سے رات کو وہ عمل یا وظیفہ نہ کر سکے تو اسے اس پر ہمیشگی ودوام کو بر قرار رکھنے کے لیے دن کو ظہر سے پہلے پہلے کر لینا چاہیے۔
اس طرح وہ رات کو ادا کیا گیا عمل ہی شمار ہو گا اور اس کا دوام برقرار رہے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1745]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1791 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي