علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب : ترك الوضوء مما غيرت النار
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ". وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا" قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں:) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 18160)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 13 (1109)، مسند احمد 6/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
183
| يصبح جنبا من غير احتلام ثم يصوم قربت إلى النبي جنبا مشويا فأكل منه ثم قام إلى الصلاة ولم يتوضأ |
صحيح مسلم |
2591
| يصبح جنبا من جماع لا من حلم ثم لا يفطر ولا يقضي |
صحيح مسلم |
2594
| يصبح جنبا من غير احتلام ثم يصوم |
سنن ابن ماجه |
1704
| يصبح جنبا من الوقاع لا من احتلام ثم يغتسل ويتم صومه |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 183 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 183
183۔ اردو حاشیہ:
➊ احتلام یا جماع کی بنا پر جنابت کسی بھی وقت ہو سکتی ہے، اس لیے شریعت نے گنجائش رکھی ہے کہ اگر کسی کو یہ صورت حال پیش آگئی اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہے، غسل کا وقت نہیں، اگر غسل کرتا ہے تو سحری رہ جائے گی تو اسے اجازت ہے کہ اسی طرح روزہ رکھ لے اور بعد میں نماز سے پہلے نہالے۔ اگر روزے کے دوران میں بھی کسی کو احتلام ہو جائے تو روزے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
➋ «لم یمس ماء» ظاہر معنی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ گویا کلی بھی نہیں کہ کیونکہ کلی فرض نہیں اور ممکن ہے کہ یہ کنایہ ہو وضو نہ کرنے سے، یہی بات واضح ہے۔
➊ احتلام یا جماع کی بنا پر جنابت کسی بھی وقت ہو سکتی ہے، اس لیے شریعت نے گنجائش رکھی ہے کہ اگر کسی کو یہ صورت حال پیش آگئی اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہے، غسل کا وقت نہیں، اگر غسل کرتا ہے تو سحری رہ جائے گی تو اسے اجازت ہے کہ اسی طرح روزہ رکھ لے اور بعد میں نماز سے پہلے نہالے۔ اگر روزے کے دوران میں بھی کسی کو احتلام ہو جائے تو روزے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
➋ «لم یمس ماء» ظاہر معنی بھی مراد ہو سکتا ہے۔ گویا کلی بھی نہیں کہ کیونکہ کلی فرض نہیں اور ممکن ہے کہ یہ کنایہ ہو وضو نہ کرنے سے، یہی بات واضح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 183]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2591
ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اسے مروان رحمۃ اللہ علیہ نے اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ ان سے پوچھے کیا وہ آدمی جو صبح جنابت کی حالت میں کرتا ہے روزہ رکھ سکتا ہے؟ تو انھوں نے بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعلقات کی صورت میں جنابت کی بنا پر، نہ کہ احتلام کی وجہ سے صبح جنبی اٹھتے پھر نہ روزے چھوڑتے اور نہ اس کی قضائی دیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2591]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ان کی تردید ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھے گا لیکن قضائی دے گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ان کی تردید ہو گئی جو یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھے گا لیکن قضائی دے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2591]
Sunan an-Nasa'i Hadith 183 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← أم سلمة زوج النبي