یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب : ضمة القبر وضغطته
باب: قبر کے دبانے اور دبوچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2057
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، (پھر بھی قبر میں) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر (یہ عذاب) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2057]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دفن کے وقت) فرمایا: ”یہ شخص جس کے لیے عرش جھوم گیا، اس (کی روح) کے لیے آسمان کے تمام دروازے کھول دیے گئے اور اس کے جنازے پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے، وہ بھی بھینچ دیا گیا مگر پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7926) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2057
| هذا الذي تحرك له العرش، وفتحت له ابواب السماء، وشهده سبعون الفا من الملائكة، لقد ضم ضمة، ثم فرج عنه |
مشكوة المصابيح |
136
| هذا الذي تحرك له العرش وفتحت له ابواب السماء وشهده سبعون الفا من الملائكة لقد ضم ضمة ثم فرج عنه |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2057 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2057
اردو حاشہ:
(1) ”جھوم گیا“ یعنی ان کے استقبال کی خوشی میں۔ یہ معنیٰ ان کی عظمت و شان پر دلالت کرتے ہیں۔
(2) ”بھینچا گیا“ کیونکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔) اس بھینچنے سے وہ اس کمی کے اثر سے نجات پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ مومن کو صرف ایک دفعہ بھینچا جاتا ہے، پھر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر کچھ عجب نہیں کہ کافر پر یہ عذاب بار بار ہوتا ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر ہر ایک کو بھینچتی ہے، اگر اس سے کوئی محفوظ رہتا تو یقیناً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 327/40، رقم: 24283، والصحیحة: 268/4، رقم: 1695)
(3) اس کی توجیہ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ”قبر“ انسان کے لیے ماں کی طرح ہے کیونکہ وہ اسی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ عرصۂ دراز کے بعد ملنے والے بیٹے کو ماں خوب زور سے اپنے جسم کے ساتھ بھینچتی ہے، چاہے اسے اس سے تکلیف ہی ہو۔ قبر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، البتہ نیک شخص کو وہ محبت سے بھینچتی ہے اور برے شخص کو غصے اور ناراضی سے۔ نیک کے لیے اس میں سرور ہے اور برے کے لیے عذاب۔ واللہ أعلم۔
(1) ”جھوم گیا“ یعنی ان کے استقبال کی خوشی میں۔ یہ معنیٰ ان کی عظمت و شان پر دلالت کرتے ہیں۔
(2) ”بھینچا گیا“ کیونکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔) اس بھینچنے سے وہ اس کمی کے اثر سے نجات پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ مومن کو صرف ایک دفعہ بھینچا جاتا ہے، پھر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر کچھ عجب نہیں کہ کافر پر یہ عذاب بار بار ہوتا ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر ہر ایک کو بھینچتی ہے، اگر اس سے کوئی محفوظ رہتا تو یقیناً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 327/40، رقم: 24283، والصحیحة: 268/4، رقم: 1695)
(3) اس کی توجیہ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ”قبر“ انسان کے لیے ماں کی طرح ہے کیونکہ وہ اسی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ عرصۂ دراز کے بعد ملنے والے بیٹے کو ماں خوب زور سے اپنے جسم کے ساتھ بھینچتی ہے، چاہے اسے اس سے تکلیف ہی ہو۔ قبر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، البتہ نیک شخص کو وہ محبت سے بھینچتی ہے اور برے شخص کو غصے اور ناراضی سے۔ نیک کے لیے اس میں سرور ہے اور برے کے لیے عذاب۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2057]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 136
سعد بن معاذ کے لیے عذاب قبر کا تنگ اور کشادہ ہونا
«. . . وَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ) ایسے شخص ہیں جب ان کی روح آسمان پر پہنچی تو خوشی کی وجہ سے عرش الہٰی جھومنے لگا اور آسمان کے دروازے کھول دئے گئے اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں آئے لیکن اس کے باوجود قبر تنگ کر دی گئی پھر یہ تنگی دور کر دی گئی اور قبر کشادہ ہو گئى۔ اس حدیث کو نسائى نے روایت کیا ہے۔ (یہ قبر کا چمٹنا محبت کے طور پر تھا، لیکن چونکہ تکلیف دہ صورت میں اس کا اظہار ہوا، اس لیے اس باب میں ذکر کر دیا گیا ہے۔) واللہ اعلم . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 136]
«. . . وَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ) ایسے شخص ہیں جب ان کی روح آسمان پر پہنچی تو خوشی کی وجہ سے عرش الہٰی جھومنے لگا اور آسمان کے دروازے کھول دئے گئے اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں آئے لیکن اس کے باوجود قبر تنگ کر دی گئی پھر یہ تنگی دور کر دی گئی اور قبر کشادہ ہو گئى۔ اس حدیث کو نسائى نے روایت کیا ہے۔ (یہ قبر کا چمٹنا محبت کے طور پر تھا، لیکن چونکہ تکلیف دہ صورت میں اس کا اظہار ہوا، اس لیے اس باب میں ذکر کر دیا گیا ہے۔) واللہ اعلم . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 136]
تحقیق الحدیث:
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
سنن النسائی کے علاوہ یہ روایت دلائل النبوہ للبیھقی [28/4] میں بھی مذکور ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ ہر مرنے والے کے لئے قبر کا جھٹکا برحق ہے۔
➋ حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
«هٰذا الضمة ليست من عذاب القبر فى شي بل هو أمر يجده المؤمن كما يجد ألم فقد ولده وحميمه فى الدنيا وكما يجد ألم مرضه وألم خروج روحه . . .»
”یہ جھٹکا (مومن کے لئے) عذاب قبر میں سے نہیں بلکہ یہ ایسے ہی ہے جس طرح مومن کو اپنی اولاد یا محبوب چیز کے گم ہونے کا دکھ ہوتا ہے اور جس طرح بیماری کی تکلیف اور روح نکلنے کا درد ہوتا ہے۔۔۔“ [سیر اعلام النبلاء 1؍290]
◄ پھر حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
”ہم جانتے ہیں کہ سعد (رضی اللہ عنہ) جنتی ہیں اور آپ عالی شان شہداء میں سے ہیں۔“ [ایضاً ص 290]
➌ اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زبردست فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش ان کی شہادت پر پیار و محبت سے متحرک ہو کر ہل گیا تھا، اور ستر ہزار فرشتوں نے نماز جنازہ میں حاضری دی۔ «سبحان الله»
➍ آسمان کے کئی دروازے ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے۔
➎ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیشاب کے قطروں سے بچنے میں احتیاط نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت مجہول راوی اور منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
اس سلسلے کی دوسری ضعیف اور مردود روایتوں کے لئے دیکھئے: [مرعاة المفاتيح ج1 ص232]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
سنن النسائی کے علاوہ یہ روایت دلائل النبوہ للبیھقی [28/4] میں بھی مذکور ہے۔
فقہ الحدیث:
➊ ہر مرنے والے کے لئے قبر کا جھٹکا برحق ہے۔
➋ حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
«هٰذا الضمة ليست من عذاب القبر فى شي بل هو أمر يجده المؤمن كما يجد ألم فقد ولده وحميمه فى الدنيا وكما يجد ألم مرضه وألم خروج روحه . . .»
”یہ جھٹکا (مومن کے لئے) عذاب قبر میں سے نہیں بلکہ یہ ایسے ہی ہے جس طرح مومن کو اپنی اولاد یا محبوب چیز کے گم ہونے کا دکھ ہوتا ہے اور جس طرح بیماری کی تکلیف اور روح نکلنے کا درد ہوتا ہے۔۔۔“ [سیر اعلام النبلاء 1؍290]
◄ پھر حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
”ہم جانتے ہیں کہ سعد (رضی اللہ عنہ) جنتی ہیں اور آپ عالی شان شہداء میں سے ہیں۔“ [ایضاً ص 290]
➌ اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زبردست فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش ان کی شہادت پر پیار و محبت سے متحرک ہو کر ہل گیا تھا، اور ستر ہزار فرشتوں نے نماز جنازہ میں حاضری دی۔ «سبحان الله»
➍ آسمان کے کئی دروازے ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے۔
➎ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیشاب کے قطروں سے بچنے میں احتیاط نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت مجہول راوی اور منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
اس سلسلے کی دوسری ضعیف اور مردود روایتوں کے لئے دیکھئے: [مرعاة المفاتيح ج1 ص232]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 136]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2057 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي