🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. باب : عذاب القبر
باب: قبر کے عذاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2058
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 , قَالَ:" نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا (ابراہیم: ۲۷)۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2058]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] اللہ تعالیٰ مومنین کو دنیا اور آخرت (قبر) میں صحیح بات پر قائم رکھتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، (تحفة الأشراف: 1754) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
Newخيثمة بن عبد الرحمن الجعفي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥سعيد بن مسروق الثوري، أبو سفيان
Newسعيد بن مسروق الثوري ← خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سعيد بن مسروق الثوري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2058
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة
سنن النسائى الصغرى
2059
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة
صحيح مسلم
7220
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة قال نزلت في عذاب القبر
صحيح مسلم
7220
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
سنن ابن ماجه
4269
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2058 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2058
اردو حاشہ:
عذاب قبر سے دو مختلف معانی مراد ہیں:
(1) قبر میں سوال و جواب، اسے فتنہ قبر بھی کہا جاتا ہے۔
(2) گناہوں کی وجہ سے قبر میں پہنچنے والی تکالیف، کسی حدیث میں پہلے معنیٰ مراد ہوتے ہیں کسی میں دوسرے۔ مندرجہ بالا آیت میں قبر کا سوال و جواب مراد ہے۔ اسی طرح شہید، طاعون، ہیضہ اور حادثاتی موت وغیرہ سے مرنے والوں سے عذاب قبر کی نفی سے مراد بھی سوال و جواب کی نفی ہے جبکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ والی روایت میں دوسرے معنیٰ مراد ہیں اور یہ بھینچے جانے کی حد تک تو سب کو ہوتا ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے۔) اس سے زائد اپنے اپنے گناہوں کے مطابق حتیٰ کہ بعض کو قیامت تک ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2058]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4269
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس (مردے) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی (سورة ابراهيم: 72) سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4269]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پکی بات سے مراد کلمہ توحید ہے۔
مومن اللہ کی توفیق سے دنیا کی زندگی میں اس پر قائم رہتا ہے جس کے نتیجے میں قبر میں وہ سوال جواب کے مرحلے میں ثابت قدم رہتا ہے۔
منافق دنیا کی زندگی میں اس پر قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔
اور وہ شکوک وشبہات میں مبتلا رہتا ہے۔
لہٰذا آخرت کی اس پہلی منزل (قبر)
میں بھی وہ جواب نہیں دے سکتا۔

(2)
قبر میں عذاب نفاق اعتقادی سے کم تر گناہوں پر بھی ہوسکتا ہے۔
جیسا کہ پیشاب سے جسم اور لباس کوبچانے کی کوشش نہ کرنا ایک کی بات دوسرے کو بتا کرلڑائی کرادینا وغیرہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4269]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7220
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ"جو لوگ ایمان لائے انہیں اللہ قول ثابت (کلمہ شہادت) سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔" قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7220]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قرآن و سنت کی نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عذاب قبر کا تعلق بدن اور روح دونوں سے ہے،
لیکن بقول حاٖفظ ابن حجر،
عذاب کا تعلق،
روح اور جسد دونوں سے ہے،
لیکن اصلی اور حقیقی تعلق روح سے ہے اور تبعا جسد بھی اس کے ساتھ دکھ،
درد اور لذت و نعمت سے متاثر ہوتا ہے،
لیکن اہل دنیا کو اس کا پتہ نہیں چلتا،
اگر قبر کھود کر مردہ کو دیکھ بھی لیا جائے تو پھر ابھی احساس نہیں ہوتا،
(تکملہ ج 6 ص 241)
جس طرح خواب میں لذت یا تکلیف براہ راست دراصل روح کے لیے ہوتی ہے اور جسم تبعا اس سے متاثر ہوتا ہے،
اس طرح خواب میں جو لذت یا تکلیف خواب دیکھنے والے کو ہوتی ہے،
اس کے ساتھ لیٹنے والا،
اس کو محسوس نہیں کرتا،
جمہور اہل سنت کا موقف یہی ہے،
مزید اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)
خوراج اور بعض معتزلہ کے نزدیک،
قبر میں عذاب نہیں ہوتا ہے،
یہ قول صریح نصوص کے خلاف ہے۔
(2)
قبر کا عذاب صرف کافروں کو ہوتا ہے،
لیکن یہ قول جو بعض معتزلہ کا ہے،
احادیث کے خلاف ہے۔
(3)
سوال و عذاب کا تعلق صرف روح سے ہے،
یہ ابن حزم کا نظریہ ہے،
جا صحیح نہیں ہے،
کیونکہ فرشتے سوال بٹھا کر کرتے ہیں اور اس کاتعلق جسد سے ہے۔
(4)
عذاب صرف بدن کو ہوتا ہے،
ابن جریر اور بعض علماء کا یہی نظریہ ہے،
لیکن جب اطاعت و معصیت بدن اور روح دونوں نے مل کر کی ہے تو عذاب و ثواب صرف ایک کو کیوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7220]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7220
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ"جو لوگ ایمان لائے انہیں اللہ قول ثابت (کلمہ شہادت) سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔" قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7220]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قرآن و سنت کی نصوص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عذاب قبر کا تعلق بدن اور روح دونوں سے ہے،
لیکن بقول حاٖفظ ابن حجر،
عذاب کا تعلق،
روح اور جسد دونوں سے ہے،
لیکن اصلی اور حقیقی تعلق روح سے ہے اور تبعا جسد بھی اس کے ساتھ دکھ،
درد اور لذت و نعمت سے متاثر ہوتا ہے،
لیکن اہل دنیا کو اس کا پتہ نہیں چلتا،
اگر قبر کھود کر مردہ کو دیکھ بھی لیا جائے تو پھر ابھی احساس نہیں ہوتا،
(تکملہ ج 6 ص 241)
جس طرح خواب میں لذت یا تکلیف براہ راست دراصل روح کے لیے ہوتی ہے اور جسم تبعا اس سے متاثر ہوتا ہے،
اس طرح خواب میں جو لذت یا تکلیف خواب دیکھنے والے کو ہوتی ہے،
اس کے ساتھ لیٹنے والا،
اس کو محسوس نہیں کرتا،
جمہور اہل سنت کا موقف یہی ہے،
مزید اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)
خوراج اور بعض معتزلہ کے نزدیک،
قبر میں عذاب نہیں ہوتا ہے،
یہ قول صریح نصوص کے خلاف ہے۔
(2)
قبر کا عذاب صرف کافروں کو ہوتا ہے،
لیکن یہ قول جو بعض معتزلہ کا ہے،
احادیث کے خلاف ہے۔
(3)
سوال و عذاب کا تعلق صرف روح سے ہے،
یہ ابن حزم کا نظریہ ہے،
جا صحیح نہیں ہے،
کیونکہ فرشتے سوال بٹھا کر کرتے ہیں اور اس کاتعلق جسد سے ہے۔
(4)
عذاب صرف بدن کو ہوتا ہے،
ابن جریر اور بعض علماء کا یہی نظریہ ہے،
لیکن جب اطاعت و معصیت بدن اور روح دونوں نے مل کر کی ہے تو عذاب و ثواب صرف ایک کو کیوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7220]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2058 in Urdu