علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : الرخصة في أن يقال لشهر رمضان رمضان
باب: ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2111
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ، وَلَا قُمْتُهُ كُلَّهُ"، وَلَا أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا“ (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی (پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2111]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے یا میں نے تمام راتوں کا قیام کیا۔“ (راوی کہتا ہے) میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ اپنی تعریف کو برا سمجھا یا اس لیے کہ انسان سے غفلت اور نیند کا ہو جانا لازمی امر ہے۔ یہ الفاظ عبیداللہ (بن سعید) کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 47 (2415)، (تحفة الأشراف: 11664)، مسند احمد 5/39، 30، 41، 48، 52 (ضعیف) (اس کے راوی ’’حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2415) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2111
| لا يقولن أحدكم صمت رمضان ولا قمته كله |
سنن أبي داود |
2415
| لا يقولن أحدكم إني صمت رمضان كله وقمته كله |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2111 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2111
اردو حاشہ:
(1) یہ روایت ضعیف ہے۔ ایک دوسری ضعیف روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان مت کہو کیونکہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، ہاں: رمضان کا مہینہ کہہ سکتے ہو۔“ دیکھیے (ذخیرة العقبیٰ: 20/ 269، 270)
(2) معلوم ہوا اس قسم کے الفاظ بولنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حدیث: 2100، 2101، 2102 اور مابعد کی صحیح حدیث ہے کہ نیکی کی نسبت اپنی طرف کرنا مناسب نہیں بلکہ نسبت اللہ تعالیٰ کی توفیق کی طرف کرے، نیز بلا وجہ نیکی کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ قبولیت کے بغیر نیکی کی کوئی حیثیت نہیں اور قبولیت کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں، لہٰذا تزکیہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔
(1) یہ روایت ضعیف ہے۔ ایک دوسری ضعیف روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان مت کہو کیونکہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، ہاں: رمضان کا مہینہ کہہ سکتے ہو۔“ دیکھیے (ذخیرة العقبیٰ: 20/ 269، 270)
(2) معلوم ہوا اس قسم کے الفاظ بولنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حدیث: 2100، 2101، 2102 اور مابعد کی صحیح حدیث ہے کہ نیکی کی نسبت اپنی طرف کرنا مناسب نہیں بلکہ نسبت اللہ تعالیٰ کی توفیق کی طرف کرے، نیز بلا وجہ نیکی کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ قبولیت کے بغیر نیکی کی کوئی حیثیت نہیں اور قبولیت کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں، لہٰذا تزکیہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2111]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2415
یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے کیسا ہے؟
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا۔“ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا (اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2415]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا۔“ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا (اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2415]
فوائد ومسائل:
قرآن مجید میں ہے: (فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ) (النجم:32) اپنی نیکیاں اور خوبیاں مت بیان کرو، وہ (اللہ تعالیٰ) تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے اگر مقصود اپنی بڑائی کا اظہار اور اپنی پاکیزگی کا اعلان نہ ہو تو حکایت کے طور پر اس کا بیان جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے: (فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ) (النجم:32) اپنی نیکیاں اور خوبیاں مت بیان کرو، وہ (اللہ تعالیٰ) تقویٰ والوں کو خوب جانتا ہے۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے اگر مقصود اپنی بڑائی کا اظہار اور اپنی پاکیزگی کا اعلان نہ ہو تو حکایت کے طور پر اس کا بیان جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2415]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2111 in Urdu
الحسن البصري ← نفيع بن مسروح الثقفي