🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : ذكر حديث أم سلمة في ذلك
باب: اس سلسلے میں ابوسلمہ کی حدیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2177
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 11 (2336)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصوم 4 (1648)، (تحفة الأشراف: 18232)، مسند احمد 6/293، 300، 311، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2354 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ شعبان میں برابر روزے رکھتے کہ وہ رمضان کے روزوں سے مل جاتا تھا، چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شعبان کے نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں، تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے فرض روزوں کے لیے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أم سلمة زوج النبي
ثقة إمام مكثر
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
👤←👥شعيب بن يوسف النسائي، أبو عمرو، أبو عمر
Newشعيب بن يوسف النسائي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2177
ما رأيت رسول الله يصوم شهرين متتابعين إلا أنه كان يصل شعبان برمضان
سنن النسائى الصغرى
2178
يصل شعبان برمضان
سنن النسائى الصغرى
2354
لا يصوم شهرين متتابعين إلا شعبان ورمضان
سنن النسائى الصغرى
2355
لم يكن يصوم من السنة شهرا تاما إلا شعبان ويصل به رمضان
سنن أبي داود
2336
لم يكن يصوم من السنة شهرا تاما إلا شعبان يصله برمضان
سنن ابن ماجه
1648
يصل شعبان برمضان
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2177 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2177
اردو حاشہ:
ظاہراً اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے مگر یہ درست نہیں بلکہ آپ آخر سے چند دن ناغہ فرما لیتے تھے۔ اس بات کی صراحت آگے حدیث نمبر 2179 اور 2180 میں آرہی ہے۔ چونکہ اکثر دنوں کے روزے رکھتے تھے، لہٰذا کہہ دیا گیا کہ سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔ لِلْأَکْثرِ حُکْمُ الْکُلِّ عرفاً کلام میں ایسے عام ہو جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2177]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2354
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2354]
اردو حاشہ:
شعبان میں روزے رکھنے کے بارے میں پیچھے روایات گزر چکی ہیں۔ ان کو اور اس روایت کو دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ہی باتوں کا احتمال موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں تنوع تھا، کبھی پورا شعبان روزے سے رہتے اور کسی شعبان میں مکمل روزے نہ رکھتے بلکہ اکثر رکھ لیا کرتے۔ ام سلمہؓ کی مذکورہ حدیث سے اس تطبیق کی تائید ہوتی ہے۔ المختصر تطبیق ترجیح سے بہتر ہے کہ دونوں قسم کی احادیث معمول بہ رہتی ہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2354]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2336
شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2336]
فوائد ومسائل:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بطور مجاز ہے۔
جس کا مطلب کثرت ہے۔
جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: (كانَ يَصُومُ شَعبانَ إلا قليلًا) (صحيح مسلم، الصيام، حديث:1156)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2336]