سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب : وضع الصيام عن الحائض
باب: حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2321
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم40 (2399)، سنن ابن ماجہ/الصوم13 (1696)، (تحفة الأشراف: 17777)، موطا امام مالک/الصوم20 (54)، مسند احمد 6/124، 179 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2321 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2321
اردو حاشہ:
گویا دس ماہ بعد شعبان میں سابقہ رمضان المبارک کے رہ جانے والے روزوں کی قضا ادا کرتی تھیں۔ اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرض روزوں کی قضا ادا کرنا فوراً ضروری نہیں، سارے سال میں کسی بھی وقت قضا ادا کرنا ممکن ہے، لیکن جلدی قضا کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہی افضل ہے بیماری یا موت کا کوئی پتا ہے؟ وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ کو قضا ادا کرنا معاف نہیں بلکہ وہ روزے بہر صورت بعد میں رکھنے ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ سے قضا ادا کرنے کی تاخیر کا سبب بھی منقول ہے کہ ایسا نہ ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری ضرورت محسوس ہو اور میں روزے سے ہوں۔ شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اکثر روزے سے ہوتے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 2180)
گویا دس ماہ بعد شعبان میں سابقہ رمضان المبارک کے رہ جانے والے روزوں کی قضا ادا کرتی تھیں۔ اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرض روزوں کی قضا ادا کرنا فوراً ضروری نہیں، سارے سال میں کسی بھی وقت قضا ادا کرنا ممکن ہے، لیکن جلدی قضا کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہی افضل ہے بیماری یا موت کا کوئی پتا ہے؟ وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ کو قضا ادا کرنا معاف نہیں بلکہ وہ روزے بہر صورت بعد میں رکھنے ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ سے قضا ادا کرنے کی تاخیر کا سبب بھی منقول ہے کہ ایسا نہ ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری ضرورت محسوس ہو اور میں روزے سے ہوں۔ شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اکثر روزے سے ہوتے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 2180)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2321]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق