🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب : من آتاه الله عز وجل مالا من غير مسألة
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2605
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ".
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو (اسے) کھاؤ، اور (اس میں سے) صدقہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2605]
حضرت عبداللہ بن ساعدی مالکی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ و زکاۃ جمع کرنے پر مقرر فرمایا۔ جب میں اس ذمے داری سے فارغ ہوا اور میں نے (جمع شدہ) مال ان کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے مجھے میری خدمت کا معاوضہ دینے کا حکم جاری فرمایا۔ میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کیا ہے، اس کا معاوضہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ آپ نے فرمایا: جو میں تمھیں دے رہا ہوں، لے لو۔ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں (ایسی ہی) خدمت سرانجام دی تھی اور میں نے بھی آپ سے تیری طرح ہی کہا تھا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے کوئی چیز تیرے مانگے بغیر ملے تو (اسے لے لے اور) کھا اور (چاہے تو) صدقہ کر دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة51 (1473)، الأحکام17 (7163)، صحیح مسلم/الزکاة37 (1045)، سنن ابی داود/الزکاة28 (1647)، الخراج والإمارة10 (2944)، (تحفة الأشراف: 10487)، مسند احمد 1/17، 40، 52، 2/99، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688، 1689)، وسیأتی بعد ھذا بأرقام2606-2608 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن قدامة السعدي، أبو محمد
Newعبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥بسر بن سعيد الحضرمي
Newبسر بن سعيد الحضرمي ← عبد الله بن قدامة السعدي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← بسر بن سعيد الحضرمي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2605 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2605
اردو حاشہ:
ہر سرکاری کارندہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سرکاری کام بلا معاوضہ کر سکے کیونکہ معاشی مجبوریاں ہوتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ہر سرکاری کارندے کو معاوضہ دے اور سرکاری کارندہ اسے وصول کرے کیونکہ اگر بعض وصول کریں، بعض نہ کریں تو وصول کرنے والے شرمندگی ہی محسوس کریں گے۔ ہو سکتا ہے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جائیں۔ وصول نہ کرنے کی صورت میں اظہار ہوگا جس سے ذہن میں تکبر و فخر پیدا ہو سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2605]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2605 in Urdu