سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب : من آتاه الله عز وجل مالا من غير مسألة
باب: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بغیر مانگے مال دے دے۔
حدیث نمبر: 2606
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَتُعْطَى عَلَيْهِ عُمَالَةً فَلَا تَقْبَلُهَا، قَالَ: أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْمَالَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ:" مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ، فَخُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں (اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم (اسے اپنے مال میں شامل کر کے) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2606]
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں علاقہ شام سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم مسلمانوں کے کام (سرکاری خدمات) سر انجام دیتے ہو اور پھر جب تمہیں معاوضہ دیا جاتا ہے تو تم قبول نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میرے پاس بہت سے گھوڑے اور غلام ہیں، میں مال دار ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں) میں نے بھی ایسا ہی کرنا چاہا تھا جس طرح تو نے کرنا چاہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال وغیرہ (بصورت معاوضہ) عطا فرماتے تو میں کہہ دیتا کہ یہ کسی ایسے شخص کو دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ یہ ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مال تجھے اللہ تعالیٰ تیرے مانگے اور لالچ و طمع کے بغیر دے، اسے لے لیا کر، پھر چاہے تو اپنے پاس رکھ، چاہے صدقہ کر دے۔ اور جو مال اس طرح اپنے آپ نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2606 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2606
اردو حاشہ:
(1) ”اللہ تعالیٰ دے۔“ انسان کو جو کچھ بھی میسر ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، خواہ ظاہراً کسی آدمی کے ہاتھوں ملے کیونکہ ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے۔ دینے والے کے دل میں دینے کا خیال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جن صلاحیتوں کی وجہ سے مال ملتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ حساب بھی اللہ تعالیٰ ہی لے گا۔
(2) ان احادیث میں تنخواہ اور معاوضے کا ذکر ہے۔ تحفے اور صدقے میں بھی یہی اصول ہے کہ اگر بغیر مانگے حاصل ہو تو انکار نہیں کرنا چاہیے، البتہ صدقے کی صورت میں مستحق زکاۃ ہونا ضروری ہے۔
(3) تحفے کا بدلہ دینا چاہیے۔
(1) ”اللہ تعالیٰ دے۔“ انسان کو جو کچھ بھی میسر ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، خواہ ظاہراً کسی آدمی کے ہاتھوں ملے کیونکہ ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے۔ دینے والے کے دل میں دینے کا خیال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جن صلاحیتوں کی وجہ سے مال ملتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ حساب بھی اللہ تعالیٰ ہی لے گا۔
(2) ان احادیث میں تنخواہ اور معاوضے کا ذکر ہے۔ تحفے اور صدقے میں بھی یہی اصول ہے کہ اگر بغیر مانگے حاصل ہو تو انکار نہیں کرنا چاہیے، البتہ صدقے کی صورت میں مستحق زکاۃ ہونا ضروری ہے۔
(3) تحفے کا بدلہ دینا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2606]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2606 in Urdu
عبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي