🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. باب : استلام الحجر الأسود
باب: حجر اسود کے استلام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2939
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا".
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہما نے (حجر اسود) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2939]
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، وہ فرمانے لگے: میں نے حضرت ابوالقاسم (رسول اللہ) صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ تجھ سے بہت شفقت و محبت فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج41 (1271)، (تحفة الأشراف: 10460)، مسند احمد (1/39، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥سويد بن غفلة الجعفي، أبو أمية
Newسويد بن غفلة الجعفي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن عبد الأعلى الجعفي
Newإبراهيم بن عبد الأعلى الجعفي ← سويد بن غفلة الجعفي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← إبراهيم بن عبد الأعلى الجعفي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2939 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2939
اردو حاشہ:
(1) حجر اسود پر ہونٹ لگانا مسنون ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسے ہاتھ لگانا، اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی کوئی پاک چیز اسے لگانا اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صرف ہاتھ سے اشارہ کرنا بھی مسنون ہے۔
(2) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حجر اسود سے کلام کرنا صرف لوگوں کو سنانے کے لیے تھا، یا اپنے جذبات کے اظہار کے لیے، جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کی میت سے باتیں کرتا ہے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ نہیں سن سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2939]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2939 in Urdu