🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : الثيب يزوجها أبوها وهي كارهة
باب: باپ بیوہ کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعِ ابني يزيد ابن جارية الأنصاري، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَدَّ نِكَاحَهُ".
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 42 (5138)، الإکراہ (6940)، الحیل 11 (6969)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2101)، سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1873)، (تحفة الأشراف: 15824)، موطا امام مالک/النکاح11 (5139)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 14 (2238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خنساء بنت خذام الأنصاريةصحابي
👤←👥مجمع بن يزيد الأنصاري
Newمجمع بن يزيد الأنصاري ← خنساء بنت خذام الأنصارية
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن جارية الأنصاري، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن جارية الأنصاري ← مجمع بن يزيد الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عبد الرحمن بن جارية الأنصاري
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم العتقي، أبو عبد الله
Newعبد الرحمن بن القاسم العتقي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← عبد الرحمن بن القاسم العتقي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن القاسم التيمي ← محمد بن سلمة المرادي
ثقة ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← معن بن عيسى القزاز
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6945
رد نكاحها
سنن أبي داود
2101
رد نكاحها
سنن النسائى الصغرى
3270
رد نكاحه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3270 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3270
اردو حاشہ:
اس دور میں یقینا یہ بات حیرت انگیز تھی کہ باپ کی کیا ہوا نکاح بیٹی کو پسند نہ ہونے کی وجہ سے رد کردیا گیا۔ یہ اسلام کا عظیم کارنامہ تھا، نیز شریعت اسلامیہ میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے، بشرطیکہ وہ بالغہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3270]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6945
6945. حضرت خنساء بنت خدام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ شوہر دیدہ تھیں۔ انہوں نے اس نکاح کا ناپسند کیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اس نکاح کو مسترد کر دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6945]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری نے اس سے یہ دلیل لی کہ مکرہ کا نکاح صحیح نہیں۔
حنفیہ کہتے ہیں کہ ان کا نکاح صحیح ہوا ہی نہ تھا کیوں کہ وہ ثیبہ بالغہ تھیں ان کی اجازت اور رضا بھی ضروری تھی ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں فرد نکاحها ہے اگر نکاح صحیح ہی نہ ہوتا تو آپ فرما دیتے کہ نکاح ہی نہیں ہوا اور حدیث میں یوں ہوتا فأبطل نکاحها اور حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے جبر سے ایک عورت سے نکاح کیا دس ہزار درہم مقرر کر کے اس کا مہر مثل ایک ہزار تھا تو ایک ہزار لازم ہوں گے نوہزار باطل ہو جائیں گے۔
ہم کہتے ہیں کہ اکراہ کی وجہ سے جیسے مہر کی زیادتی باطل کہتے ہو ویسے ہی اصل نکاح کو بھی باطل کرو۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6945]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6945
6945. حضرت خنساء بنت خدام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ شوہر دیدہ تھیں۔ انہوں نے اس نکاح کا ناپسند کیا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اس نکاح کو مسترد کر دیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6945]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر دوسری جگہ ان الفاظ کے ساتھ عنوان قائم کیا ہے:
(باب إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ)
جب کوئی اپنی بیٹی پر جبر کرتے ہوئے اس کا نکاح کسی دوسرے سے کر دے تو اس کا نکاح مردود ہے۔
(صحیح البخاري، النکاح، باب 43)
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ حضرت جعفر کی اولاد میں سے ایک لڑکی کو خطرہ تھا کہ اس کا سرپرست زبردستی کسی سے اس کا نکاح کر دے گا تو اس نے انصار کے دو شیوخ حضرت عبدالرحمان اور مجمع سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انھوں نے تسلی دی کہ تجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، پھر انھوں نے اس حدیث کا حوالہ دیا۔
(صحیح البخاري الحیل، حدیث 6969)
۔

بہرحال اگرسرپرست زبردستی نکاح کرتا ہے تو ایسا نکاح مسترد ہوگا۔
اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6945]