🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب : النذر فيما لا يملك
باب: قبضے اور ملکیت سے باہر چیزوں کی نذر ماننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3843
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ال نذر 3 (1641)، سنن ابی داود/ال نذر 28 (3316)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16(2124)، (تحفة الأشراف: 10884، 10888)، مسند احمد (4/429، 430، 432، 433، 434)، سنن الدارمی/النذور 3 (2382)، وأعادہ المؤلف برقم: 3882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥معاوية بن عمرو البصري، أبو المهلب
Newمعاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن عمرو البصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن منصور الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3843
لا نذر في معصية الله لا فيما لا يملك ابن آدم
سنن النسائى الصغرى
3871
لا نذر في معصية كفارته كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3872
لا نذر في معصية كفارتها كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3878
لا نذر في معصية لا غضب كفارته كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3879
لا نذر في المعصية كفارته كفارة اليمين
سنن النسائى الصغرى
3880
لا نذر لابن آدم فيما لا يملك لا في معصية الله
سنن النسائى الصغرى
3882
لا نذر في معصية لا فيما لا يملك ابن آدم
سنن ابن ماجه
2124
لا نذر في معصية لا نذر فيما لا يملك ابن آدم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3843 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3843
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے 3823 ح دیکھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3843]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3880
نذر کے کفارہ کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے۔‏‏‏‏ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
اردو حاشہ:
البتہ اگر نذر مان لے تو دونوں صورتوں میں نذر پوری کرنا منع ہے۔ کفارہ دینا پڑے گا جس طرح پیچھے گزرا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3880]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2124
نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2124]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  نذر اللہ کو راضی کرنے کے لیے مانی جاتی ہے اس لیے اگر کوئی شخص ایسی نذر مان لے جو گناہ کا کام ہے تو وہ نذر کالعدم ہے اسے پورا کرنا جائز نہیں، مثلاً:
کوئی نذر مانے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو دوسرے بیٹوں سے زیادہ دوں گا، یا ایسے کام کی نذر مان لے جو شرعی طور پر ثواب کا کام نہیں مثلاً:
یہ نذر کہ میں دھوپ میں کھڑا رہوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ نذر پوری نہ کرے اس کے بدلے میں کفارہ دے دے۔

(2)
  جس چیز کا مالک نہیں، مثلاً:
کسی دوسرے شخص کا جانور ذبح کرنے کی نذر مان لے تو یہ درست نہیں۔
ہاں اگر یہ خیال ہو کہ میں یہ جانور خرید لوں گا اور امید ہو کہ وہ بیچ دے گا تو خرید کر ذبح کر دے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2124]