🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : كفارة النذر
باب: نذر کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3880
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان اس چیز میں نذر نہیں مان سکتا جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مان سکتا ہے۔ علی بن زید نے منصور بن زاذان کی مخالفت کی ہے، اس نے یہ روایت بواسطہ حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10811)، مسند احمد (4/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥منصور بن زاذان الواسطي، أبو المغيرة
Newمنصور بن زاذان الواسطي ← الحسن البصري
ثقة ثبت
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← منصور بن زاذان الواسطي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3843
لا نذر في معصية الله لا فيما لا يملك ابن آدم
سنن النسائى الصغرى
3871
لا نذر في معصية كفارته كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3872
لا نذر في معصية كفارتها كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3878
لا نذر في معصية لا غضب كفارته كفارة يمين
سنن النسائى الصغرى
3879
لا نذر في المعصية كفارته كفارة اليمين
سنن النسائى الصغرى
3880
لا نذر لابن آدم فيما لا يملك لا في معصية الله
سنن النسائى الصغرى
3882
لا نذر في معصية لا فيما لا يملك ابن آدم
سنن ابن ماجه
2124
لا نذر في معصية لا نذر فيما لا يملك ابن آدم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3880 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3880
اردو حاشہ:
البتہ اگر نذر مان لے تو دونوں صورتوں میں نذر پوری کرنا منع ہے۔ کفارہ دینا پڑے گا جس طرح پیچھے گزرا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3880]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3843
قبضے اور ملکیت سے باہر چیزوں کی نذر ماننے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے 3823 ح دیکھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3843]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2124
نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2124]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  نذر اللہ کو راضی کرنے کے لیے مانی جاتی ہے اس لیے اگر کوئی شخص ایسی نذر مان لے جو گناہ کا کام ہے تو وہ نذر کالعدم ہے اسے پورا کرنا جائز نہیں، مثلاً:
کوئی نذر مانے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو دوسرے بیٹوں سے زیادہ دوں گا، یا ایسے کام کی نذر مان لے جو شرعی طور پر ثواب کا کام نہیں مثلاً:
یہ نذر کہ میں دھوپ میں کھڑا رہوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ نذر پوری نہ کرے اس کے بدلے میں کفارہ دے دے۔

(2)
  جس چیز کا مالک نہیں، مثلاً:
کسی دوسرے شخص کا جانور ذبح کرنے کی نذر مان لے تو یہ درست نہیں۔
ہاں اگر یہ خیال ہو کہ میں یہ جانور خرید لوں گا اور امید ہو کہ وہ بیچ دے گا تو خرید کر ذبح کر دے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2124]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3880 in Urdu