🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ". خَالَفَهُمْ الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے، اور حدیثوں روایت کی ہے: عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4431)، مسند احمد (3/67)، سنن الدارمی/البیوع 23 (2599) (حسن صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
ثقة حافظ فاضل
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله المخرمي ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ أمين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2186
المزابنة المحاقلة المزابنة اشتراء الثمر بالتمر في رءوس النخل
صحيح مسلم
3934
نهى عن المزابنة المحاقلة
سنن النسائى الصغرى
3916
المحاقلة المزابنة
سنن ابن ماجه
2455
المحاقلة والمحاقلة استكراء الأرض
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
493
نهى عن المزابنة والمحاقلة. والمزابنة: اشتراء الثمر بالتمر فى رؤوس النخل، والمحاقلة: كراء الارض بالحنطة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3916 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3916
اردو حاشہ:
محمد بن عمرو‘ عمر بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن ابوکثیر نے بالترتیب ابوسعید خدری‘ ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہؓ کا نام لیا ہے جبکہ اسود بن علاء نے ان مذکورہ کے بجائے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3916]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 493
مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
«. . . عن أبى سعيد الخدري: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة والمحاقلة. والمزابنة: اشتراء الثمر بالتمر فى رؤوس النخل، والمحاقلة: كراء الأرض بالحنطة . . .»
. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دو سَودوں) مزابنہ اور محقلہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ درختوں پر تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے بدلے خریدا جائے اور محاقلہ (مقرر) گندم کے بدلے میں زمیں کو کرائے پر دینے کو کہتے ہیں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 493]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 2186، ومسلم 105/1546، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن عبدالبر نے فرمایا: اس پر اجماع ہے کہ راوی اپنی روایت کی جو تشریح کرتا ہے وہی قابل تسلیم ہے کیونکہ وہ اپنی روایت کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ [التمهيد 2/313]
➋ زمین کا ایک حصہ مخصوص کرکے اس کی فصل وغیرہ کے بدلے میں زمین کرائے پر دینا تو ممنوع ہے لیکن سونے چاندی (یا رقم) کے بدلے میں جائز ہے جیسا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 2346، 2347، وصحيح مسلم 1547] اور آنے والی حدیث (162) اسی طرح کل فصل کے آدھ (نصف) وغیرہ پر زمین دینا بھی جائز ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 2328، وصحيح مسلم 1551] سعید بن المسیب رحمہ اللہ بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 2/625 ح1356، وسنده صحيح]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات سے منع فرما دیں اُس سے بچنا ضروری ہے اِلا یہ کہ جواز کی کوئی دلیل یا قرینہ صحیحہ ہو۔
➍ اسلام میں ایسے سودوں کی ممانعت ہے جن میں کسی ایک فریق کے واضح نقصان کا اندیشہ ہو۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 158]