یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4006
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. وَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68. قَالَ: هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ , نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو کیا اس کی توبہ قبول ہو گی؟، میں نے ان کے سامنے سورۃ الفرقان کی یہ آیت: «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» پڑھی تو انہوں نے کہا: یہ آیت مکی ہے اسے ایک مدنی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» نے منسوخ کر دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4006]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا اس شخص کی توبہ قبول ہو سکتی ہے جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ہو؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میں نے انہیں سورۂ فرقان والی آیت پڑھ کر سنائی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔“ انہوں نے فرمایا: یہ مکی آیت ہے، اس کو دوسری مدنی آیت نے منسوخ کر دیا: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے… الخ۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 2 (4764)، صحیح مسلم/التفسیرح 20 (3023)، (تحفة الأشراف: 5621)، ویأتي برقم: 4869 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4006 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4006
اردو حاشہ:
منسوخ کا مطلب وہ بھی ہو سکتا ہے جو اوپر بیان ہوا کہ سورہ فرقان والی آیت کفار کے بارے میں ہے جو بعد میں مسلمان ہو جائیں اور یہ دوسری آیت مسلمان قاتل عمد کے بارے میں ہے۔
منسوخ کا مطلب وہ بھی ہو سکتا ہے جو اوپر بیان ہوا کہ سورہ فرقان والی آیت کفار کے بارے میں ہے جو بعد میں مسلمان ہو جائیں اور یہ دوسری آیت مسلمان قاتل عمد کے بارے میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4006]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4006 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي