Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : ما يكفي الجنب من إفاضة الماء على رأسه
باب: جنبی کے لیے سر پر کتنا پانی بہانا کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 425
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا". لَفْظُ سُوَيْدٍ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل (جنابت) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 251 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جبير بن مطعم القرشي، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عديصحابي
👤←👥سليمان بن صرد الخزاعي، أبو مطرف
Newسليمان بن صرد الخزاعي ← جبير بن مطعم القرشي
صحابي
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← سليمان بن صرد الخزاعي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← سويد بن نصر المروزي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عبيد الله بن سعيد اليشكري، أبو قدامة
Newعبيد الله بن سعيد اليشكري ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة مأمون سنى
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
254
أما أنا فأفيض على رأسي ثلاثا وأشار بيديه كلتيهما
صحيح مسلم
741
أفرغ على رأسي ثلاثا
صحيح مسلم
740
أفيض على رأسي ثلاث أكف
سنن أبي داود
239
أما أنا فأفيض على رأسي ثلاثا وأشار بيديه كلتيهما
سنن النسائى الصغرى
425
أما أنا فأفرغ على رأسي ثلاثا
سنن النسائى الصغرى
251
أما أنا فأفيض على رأسي ثلاث أكف
سنن ابن ماجه
575
أما أنا فأفيض على رأسي ثلاث أكف
سنن نسائی کی حدیث نمبر 425 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 425
425۔ اردو حاشیہ:
➊ اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دو استاد ہیں عبداللہ بن سعید اور سوید بن نصر۔ امام صاحب صراحت فرما رہے ہیں کہ مذکورہ الفاظ حدیث استاد سوید کے بیان کردہ ہیں۔
➋سر کو اہتمام سے دھونا چاہیے، اس لیے اس میں تین دفعہ دھونے کی مشروعیت ہے۔ اس تعداد سے سر کی جلد اچھی طرح تر ہو جاتی ہے۔ اس سے زائد دفعہ دھونا ممنوع ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کا باب سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 425]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 254
جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے
«. . . قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا " . . . .»
. . . ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا:: 254]
تشریح:
ابونعیم نے مستخرج میں روایت کیا ہے کہ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کا ذکر کیا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ انہوں نے جھگڑا کیا تب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 254]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 254
غسل بدن پر تین مرتبہ پانی بہانا
«. . . حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا . . .»
. . . ہم سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا: 254]
تخريج الحديث:
[187۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 4 باب من افاض على راسه ثلاثًا 254، مسلم 327، ابن ماجه 570]
فھم الحدیث:
معلوم ہوا کہ دوران غسل بدن پر تین مرتبہ پانی بہانا مستحب ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ [شرح مسلم للنووي 246/2]
تاہم واجب صرف ایک مرتبہ پانی بہانا ہی ہے کہ پیچھے حدیث گزری ہے۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 187]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 251
سر پر کتنا پانی بہانا جنبی کے لیے کافی ہو گا؟
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 251]
251۔ اردو حاشیہ: اگر مسنون طریقے کے مطابق پہلے وضو کیا جائے، پھر بالوں کا خلال کر کے جڑیں تر کر لی جائیں تو سر پر تین چلو پانی بہانا ہی کافی ہو گا۔ کوئی جگہ اور کوئی بال خشک نہ رہے گا، نیز پانی کی بچت بھی ہو گی۔ ان روایات میں غسل جنابت سے پہلے نماز والا وضو کرنے کا بیان تو ہے لیکن ان میں سے کسی میں بھی سر کے مسح کا ذکر نہیں ہے۔ گویا مسح کی بجائے سر پر تین چلو پانی بہانا ضروری ہے، اسی طرح پاؤں بھی نہیں دھونے، بلکہ پاؤں غسل کرنے کے بعد آخر میں دھوئے جائیں گے، البتہ یہ ضروری ہے کہ دوران غسل میں اگلی اور پچھلی شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے ورنہ وضو برقرار نہیں رہے گا، اسی لیے روایات میں صراحت ہے کہ وضو کرنے سے پہلے شرم گاہ اچھی طرح دھو لے۔ اس اعتبار سے غسل جنابت میں یہ ضروری ہے کہ پہلے شرم گاہ صاف کرے، پھر ہاتھ دھو کر وضو کرے، اس میں سر میں مسح کرنے کی بجائے تین لپ پانی ڈالے، پھر پورا غسل کر لے اور آخر میں دونوں پاؤں دھو لے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 251]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث575
غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 575]
اردو حاشہ:
(1)
اگر سر میں صحیح طریقے سے پانی ڈالا جائے تو تین لپوں میں پورا سر اچھی طرح تر ہو سکتا ہے۔
ویسے بھی ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرنا فضول خرچی ہے جس سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔

(2)
بحث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع پر بات چیت شروع ہوگئی ہے، ہر کسی نے بتایا کہ وہ غسل کس طرح کرتا ہے۔
تعلیم وتربیت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی مسئلے میں شاگردوں کی رائے فرداً فرداً دریافت کی جائے۔
اس کے بعد استاد صحیح بات بتائے تاکہ ہر طالب علم اپنی غلطی معلوم کرکے اسے اچھی طرح یاد رکھ سکے۔

(4)
اس حدیث میں غسل جنابت کے مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ بیان کیا گیا ہے، ممکن ہے رسول اللہ نے پورا طریقہ بیان کیا ہو، راوی نے صرف اہم ذکر کردیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی مسائل ذکر نہ کیے ہوں کیونکہ صحابہ نے وہ باتیں صحیح بتائی ہوں گیجو بات ان سے رہ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرما دیا۔
 واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 575]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 740
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل کے بارے میں جھگڑا کیا، بعض نے کہا، میں تو بس اتنی اتنی دفعہ سر دھو لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تو سر پر تین چلو ڈالتا ہوں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:740]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
تَمَارُوا:
باہمی اختلاف اور جھگڑا کیا۔
اَكُفٍّ:
كف کی جمع ہے،
ہتھیلی کو کہتے ہیں اور یہاں مراد چلو ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 740]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:254
254. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے، انهوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:254]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ کا اس عنوان سے مقصد یہ ہے کہ غسل میں اصل بات استیعاب ہے۔
تین بار پانی ڈالنے کا عدد بزات خود مطلوب نہیں، بلکہ تین بار عمل کرنے میں رازیہ ہے کہ تکرار عمل سے عمل میں قوت آجاتی ہے۔
تین بار کا عمل تکرار کی آخری حد ہے۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کے متعلق اپنی اپنی حالتیں بیان کیں، کسی نے کہا:
میں ایسے کرتا ہوں۔
دوسرے نے کہا:
میں ایسے کرتا ہوں۔
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو تین بار پانی بہاتا ہوں۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 740 (327)
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے غسل جنابت کے سلسلے میں اپنی اپنی حالتیں بیان کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جواب دیا جس کا ذکر اس روایت میں ہے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 742 (327)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 254]