یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : الرخصة في إمساك الكلب للماشية
باب: جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4290
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ". قُلْتُ: يَا سُفْيَانُ , أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا“، میں نے عرض کیا: سفیان! کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4290]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سفیان بن ابو زہیر شنئی رضی اللہ عنہ آئے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ کھیتی کی حفاظت کرتا ہو اور نہ جانوروں کی (اور نہ وہ شکاری ہو) تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط ثواب کم کیا جائے گا۔“ میں نے کہا: اے سفیان! کیا آپ نے یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 3 (2323)، بدء الخلق 17 (3325)، صحیح مسلم/المساقاة 10 (1576)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3206)، (تحفة الأشراف: 4476)، موطا امام مالک/الإستئذان 5 (13)، مسند احمد (5/219، 220)، سنن الدارمی/الصید 2 (2048) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قیراط اور دو قیراط کا اختلاف شاید زمان و مکان کے اعتبار سے ہے، چنانچہ ابتداء میں کتوں کے قتل کا حکم ہوا پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور ثواب میں سے دو قیراط کی کمی کی خبر دی گئی پھر اس میں تخفیف ہوئی اور ایک قیراط کی خبر دی گئی (واللہ اعلم)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3325
| من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص من عمله كل يوم قيراط |
صحيح البخاري |
2323
| من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص كل يوم من عمله قيراط |
صحيح مسلم |
4036
| من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص من عمله كل يوم قيراط |
سنن النسائى الصغرى |
4290
| من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص من عمله كل يوم قيراط |
سنن ابن ماجه |
3206
| من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص من عمله كل يوم قيراط |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4290 in Urdu
السائب بن يزيد الكندي ← سفيان بن أبي زهير الأزدي