یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : الرخصة في إمساك الكلب للحرث
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ومحمد بن جعفر , عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، أَوْ زَرْعٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے، یا جانوروں یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر ایک قیراط کم ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4293]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کتا رکھا جو نہ شکاری ہو اور نہ جانوروں یا کھیتی کی حفاظت کے لیے ہو تو اس کے ثواب سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4285 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4293 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4293
اردو حاشہ:
ممکن ہے نیکیوں میں کمی یا تو لوگوں کی تکلیف کی بنا پر ہو یا فرشتوں کے گھر میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ فرشتوں کی آمد سے اہل خانہ میں نیکیوں کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ یا شرعی حکم نافرمانی کی وجہ سے، یا اس لیے کہ وہ کتا گھر کے برتنوں میں منہ مارتا رہے اور صاحب خانہ کو پتا نہ چلے وغیرہ۔ المختصر اس کی وجہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کوئی قطعی بات نہیں کہی جا سکتی۔
ممکن ہے نیکیوں میں کمی یا تو لوگوں کی تکلیف کی بنا پر ہو یا فرشتوں کے گھر میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ فرشتوں کی آمد سے اہل خانہ میں نیکیوں کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ یا شرعی حکم نافرمانی کی وجہ سے، یا اس لیے کہ وہ کتا گھر کے برتنوں میں منہ مارتا رہے اور صاحب خانہ کو پتا نہ چلے وغیرہ۔ المختصر اس کی وجہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کوئی قطعی بات نہیں کہی جا سکتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4293]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4293 in Urdu
الحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني